تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 384
جب نظر آتی ہیں تو پھر یہ کہنا غلط ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا نظر کچھ نہیں آتا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ٹھیک ہے یہ سب چیزیںنظر آتی ہیں۔مگران میں سے کوئی بھی خدا تعالیٰ کا کفو نہیں۔یعنی وہ تو سب کچھ اپنے پاس سے دیتا ہے اور باقی لوگ جو کچھ دیتے ہیں خدا کے دیئے ہوئے میں سے دیتے ہیں۔اپنے پاس سے نہیں دیتے۔اس کے سوا سب محض واسطے ہیں خدا ان کے پیالے میں ڈالتا ہے تو وہ آگے پہنچادیتے ہیں۔ماں کی چھاتیوں میں دودھ خدا تعالیٰ ڈالتا ہے اور وہ صرف واسطہ بن جاتی ہے۔باپ کو خدا تعالیٰ دیتا ہے تو وہ اولاد پرخرچ کردیتا ہے۔توگویا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ کا مضمون ایک ہی ہے۔پھر اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کا مضمون اَللّٰہُ الصَّمَدُ میں آگیا ہے۔صمد وہ ہے جو خود تو کسی کا محتاج نہ ہو مگر باقی سب اس کے محتاج ہوں اور وہ ان کی حاجتیں پوری بھی کرتا ہو۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں یہ مضمون آگیا کہ سب خدا کے محتاج ہیں اور نَسْتَعِيْنُ میں یہ مضمون آگیا کہ اللہ تعالیٰ سب کی مدد کرتاہے اور جب اس کے سوا کوئی حاجت پوری کر ہی نہیں سکتا تو ہر ایک کو مجبور ہو کر اسی کی طرف آناپڑتا ہے۔پس ظاہر ہے کہ سورۃ فاتحہ اور سورۃ الاخلاص کے مضمون میں ایک اشتراک ہے۔سورۃ الاخلاص ہے تو بہت مختصر لیکن اس میں کامل توحید کو پیش کیا گیا ہے۔چنانچہ اس میںتین امور کو پیش کیا ہے۔۱۔خدا تعالیٰ کی ذات کو کہ وہ موجود ہے۔۲۔خدا تعالیٰ کے ذات میں منفرد ہونے کو یعنی یہ کہ وہ اکیلا ہے اور یہ کہ دویا تین خدا نہیں۔۳۔خدا تعالیٰ کے واحد فی الصفات ہونے کو۔یعنی یہ کہ اس کی صفات میں کوئی ہمسر ی نہیںکرسکتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ تم کہہ دو کہ خدا کی ہستی کے متعلق تم مختلف خیالات میں مبتلا ہو۔قسم قسم کی تھیوریاں ایجاد کرتے ہو۔طرح طرح کے فلسفے اور نکتے معلوم کرتے ہو۔لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق جو یقینی بات ہے اس کا نقطہ مرکزی یہ ہے کہ اَللّٰہُ اَحَدٌ اللہ کی ذات ایسی ہے کہ ہر رنگ میں او رہر طرح اپنے وجود میں ایک ہی ہے نہ وہ کسی کی ابتدائی کڑی ہے اور نہ آخری سرا۔نہ کسی کے مشابہ ہے اور نہ کوئی اس کے مشابہ۔اَحَدٌ کا لفظ اپنے اندر عجیب خصوصیت رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس میں کسی رنگ میں دُوئی کا خیال نہیں پایا جاتا۔باقی سب ہندسوں میں دُوئی کا خیال پایا جاتا ہے۔حتی کہ واحد میںبھی اور اوّل میں بھی دُوئی پائی جاتی ہے۔واحد کے معنے ہیں پہلا۔یعنی دوسروں کی نسبت سے پہلا۔اور نسبت دُوئی کو طلب کرتی ہے کیونکہ اس وقت تک کسی چیز کی نسبت نہیں قائم کی جا سکتی جب تک دُوئی نہ ہو۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ دایا ں ہے جب تک بایاں نہ ہو۔اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے