تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 360
سے ہونا تھا اور یہ دیوار ان کے لئے روک نہ ہو سکتی تھی ) پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب یہ وقت آجائے گا توہم ان قوموں کو ایک دوسرے کے خلاف جوش سے حملہ آور ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے اور بگل بجایا جائے گا اور دنیا میں ہلچل مچ جائے گی۔تب ہم ان سب کو اکٹھا کردیں گے۔اور ہم اس دن جہنم کو کافروں کے سامنے لے آئیں گے۔ان کے سامنے جن کی آنکھیں میرے ذکر یعنی قرآن کریم کی طرف سے غفلت کے پردہ میں تھیں اور وہ سننے کی طاقت بھی نہیں رکھتے تھے۔تو کیا یہ سب کچھ دیکھ کر پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے سمجھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو مددگار بنا سکیں گے ہم نے تو کافروں کی ضیافت کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے۔تُو انہیں کہہ کہ کیا ہم تمہیں ان لوگوں سے آگاہ کریں جو اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کی تمام تر کوشش اس دنیاوی زندگی میں ہی لگ گئی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔اِن آیات سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں ترقی کرتے کرتے یاجوج و ماجوج دونوں قومیں دنیا کے ممالک پر قابض ہو جائیں گی اور پھر آپس میں ان کی رقابت شروع ہو جائے گی اور آخر کار دونوں کی آپس میں مڈبھیڑ ہو جائے گی اور وہ ایک دوسرے پر آگ برسائیں گی اور اپنی تباہی کا موجب بن جائیں گی۔پھر فرمایا کہ وہ دونوں بڑی صنعتی قومیں ہوں گی اور عجیب درعجیب ایجاد یں کریں گی۔لیکن دین اورخدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی طرف سے غافل ہوجائیں گی اور اس وجہ سے ان کی دنیوی اور علمی ترقی بےکار ہو جائے گی اور ان کو تباہی سے بچانہیں سکے گی۔یہ پیشگوئیاں موجودہ زمانہ پر بالکل صادق آتی ہیں۔اسلامی حکومت کا تنزل سترہویں صدی کے شروع میں ہوا ہے۔اور اس کے بعد مغربی حکومتوں کی سیاسی رسہ کشی شروع ہوئی ہے اور سائنس کی ترقی ہوئی ہے اور فلسفہ اور مادیت نے مذہب پر حملے شروع کئے ہیں جس کے نتیجہ میں آخر مذہب بالکل بے کار ہو کے رہ گیا۔مادیت نے خالص منطقی نکتوں کی اتباع کر کے اقتصادی تغیرات کی ایسی ایسی شکلیں پیش کیں کہ دنیا محو حیرت ہو گئی۔اور انہی میں سے ایک نتیجہ کمیونزم ہے۔دنیا کے پید اکرنے والے ایک خدا اور اس کے نظام کو چھوڑ کر میں سمجھ ہی نہیں سکتا کہ دنیا کمیونزم یا ناٹسی ازم سے ورے کسی اور دلیل کو تسلیم کر سکتی ہو۔خدا تعالیٰ اور اس کی تعلیمات کو نظر انداز کر کے یاتو ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ تمام انسان برابر ہیں اور دنیا کی سب چیزیں ان میں زور کے ساتھ برابر تقسیم کر دینی چاہئیں اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ طاقت ہی اصل چیز ہے جس کے پاس طاقت ہے وہی قابل ہے اور وہی دنیا کی