تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 359

نَقْبًا۔قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّيْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّيْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّيْ حَقًّا۔وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ يَّمُوْجُ فِيْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًا۔وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَىِٕذٍ لِّلْكٰفِرِيْنَ عَرْضَا۔ا۟لَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُهُمْ فِيْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِيْ وَ كَانُوْا لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ سَمْعًا۔اَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ يَّتَّخِذُوْا عِبَادِيْ مِنْ دُوْنِيْۤ اَوْلِيَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ نُزُلًا۔قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِيْنَ اَعْمَالًا۔اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ هُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا۔(الکہف:۹۴تا۱۰۵) ان آیات اور اس سے چند پہلی آیات میں ذوالقرنین بادشاہ ( یعنی خورس) کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا ہے کہ یاجوج و ماجوج اقوام جو شمالی ایشیا اور مشرقی یورپ کے علاقوں میں رہتی تھیں۔ایشیا کی زرخیزی کی وجہ سے اس پر حملے کرتی تھیں۔ذوالقرنین نے ان اقوام کے حملوں کو بڑی سختی سے روک دیا اور یہ اقوام ایشیاکے انتہائی شمال مغرب اور یورپ کے مشرق میں گھِر گئیں۔اور ذوالقرنین نے اس امر کا انتظام کیا کہ ان اقوام کے ایشیا میں آنے کی صورت ہی نہ رہے۔اور ان کے حملوں سے نجات کے لئے ایک دیوار بنادی۔سورۂ کہف کی آیات جو اوپر لکھی گئی ہیں ان میں ذوالقرنین کے اس واقعہ کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذوالقرنین جب دوپہاڑوں کے درمیان پہنچا۔تو اس نے ان کے وَرے کچھ ایسے لوگ پائے جو بمشکل اس کی بات سمجھتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اے ذوالقرنین یاجوج و ماجوج یقیناً اس ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں پس کیا ہم لوگ آپ کے لئے کچھ خراج اس شرط پر مقرر کردیں کہ آپ ہمارے درمیان اور ان کے درمیان ایک روک بنادیں۔اس نے کہا کہ اس قسم کے کاموں کے متعلق میرے رب نے جو طاقت مجھے بخشی ہے وہ دشمنوں کے سامانوں سے بہت بہتر ہے۔اس لئے تم مجھے اپنی طاقت کے مطابق مدد دو۔تاکہ میں تمہارے درمیان اور ان کے درمیان ایک روک بنادوں۔تم مجھے لوہے کے ٹکڑے لادو۔چنانچہ وہ روک تیار ہونے لگی۔یہاں تک کہ جب اس نے پہاڑی کی دونوں چوٹیوں کے درمیان دیوار بنادی۔تو اس نے ان سے کہا کہ اب مجھے گلا ہوا تانبا لادو تاکہ میں اس کو اس میں استعمال کر کے اس کو مضبوط کردوں۔پس جب وہ دیوار تیار ہوگئی تو یاجوج و ماجوج کے حملے رک گئے۔نہ تو وہ اس دیوار پر چڑھ کر اس کو پھاند سکے اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکے، اس پر ذوالقرنین نے کہا کہ یہ کام محض میرے رب کے احسان سے ہواہے پھر جب عالمگیر عذاب کے متعلق میرے رب کا وعدہ پورا ہونے پر آئے گا تو وہ اسے توڑ کر زمین کے برابر کردے گا اور میرے رب کا وعدہ ضرور پورا ہوکر رہنے والا ہے۔(یعنی وہ موعود وقت آنے والا ہے جبکہ یہ قومیں جنوب مشرق کی طرف بڑھیں گی اور یہ دیوار بےکار ہو جائے گی۔کیونکہ ان قوموں کا داخلہ سمندر کے ذریعہ