تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 339
وقت میں تیس چالیس نہیں بلکہ سو سَوا سو لڑکوں کو بھی پڑھا سکتا ہو۔اگر اس کے پاس ہزار دو ہزار لڑکے لے آئیں تو نہیں پڑھاسکے گا۔رسول بھی استاد ہی ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت آتا ہے۔یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۔( اٰل عمران:۱۶۵) کہ اس رسول کاکام یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی آیتیں لوگوں کو سنائے۔کتاب کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے اوراحکام کا فلسفہ سکھائے۔غرض نبی ایک استاد ہوتا ہے اس کا کام تعلیم دینا ہوتا ہے اس لئے وہ تھوڑے لوگوں کو ہی دے سکتا ہے کیونکہ لاکھوں کروڑوں انسانوں کو سبق دینا اور پھر یا د بھی کروا دینا کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔پس جب کسی کے سامنے لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کی جماعت سبق لینے کے لئے کھڑی ہو تو ضرور ہو گا کہ اس کی تعلیم میں نقص رہ جائے اور لوگ پوری طرح علم نہ حاصل کر سکیں۔یا یہ ہوگا کہ بعض تو پڑھ جائیں گے اور بعض کی تعلیم ناقص رہ جائے گی اور بعض بالکل جاہل کے جاہل ہی رہ جائیں گے اور کوئی تعلیم حاصل نہ کرسکیں گے۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے فتوحات کی خبردی اور بتایا گیا کہ مکہ فتح ہوگا اور اس کے نتیجہ میں بے شمار لوگ اسلام میں داخل ہوں گے تو آپؐکے دل میں جو بڑا ہی پاک دل تھا یہ گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ ان تھوڑے سے لوگوں کو تو میں اچھی طرح تعلیم دے لیتا تھا، قرآن کریم سکھاسکتا تھا۔لیکن یہ جو لاکھوں انسان اسلام میں داخل ہوں گے ان کو میں کس طرح تعلیم دوں گا۔اور مجھ میں جو بوجہ بشریت کے یہ کمزوری ہے کہ اتنے کثیر لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا اس کا کیاعلاج ہوگا۔اس کا جواب خدا تعالیٰ نے یہ دیا کہ اس میں شک نہیں کہ جب فتح ہوگی اور نئے نئے لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوں گے توان میں بہت سی کمزوریاں ہوں گی۔اور یہ بھی سچ ہے کہ وہ سب کے سب آپ سے تعلیم نہیں پا سکتے۔مگر ان کو تعلیم دلانے کا یہ علاج ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ اے خدا مجھ میں بشریت کے لحاظ سے یہ کمزوری ہے کہ اتنے لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا تُومیری اس کمزوری کو ڈھانپ دے اور وہ اس طرح کہ ان سب لوگوں کو خود ہی تعلیم دےدے اور خود ہی ان کو پاک کردے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اِسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ کے الفاظ کہہ کر اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ اسلام میں کثرت سے داخل ہونے والے لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لئے آپ خدا تعالیٰ سے دعاکریں اور التجا کریں کہ اب لوگوں کے کثرت سے آنے کی وجہ سے جو بد نتائج نکل سکتے ہیں ان سے آپ ہی بچائیے۔اوران کو خود ہی دور کر دیجئے۔اور یہ ظاہر ہے کہ آپ کا لاکھوں انسانوں کو ایک ہی وقت میں پوری تعلیم نہ دے سکنا کوئی گناہ نہیں۔بلکہ بشری کمزوری کا نتیجہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ