تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 335
دن دور نہیں جبکہ ہرشخص اسلام کے مادی غلبہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اسلام کا ضعف اس کی طاقت میں تبدیل ہو جائے گا۔پس یہ سب کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار اور دعا کا نتیجہ ہے۔اب ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ جن آیات میں استغفار کے ساتھ ذنب کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کا کیا مطلب ہے۔کیونکہ ذنب کے معنے لغت میں جُرم کے لکھے ہیں۔اور اس لحاظ سے اِسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ کے معنے یہ بنیں گے کہ اے محمد رسول اللہ !اپنے جُرم کے لئے آپ استغفار کریں۔اس بارے میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جیسا کہ اس آیت کی تفسیر کے شروع میں اصولی طور پر لکھا جا چکا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ عظیم الشان انسان ہیں جن کی اتباع سے انسان خدا سے ملتا ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہو جاتا ہے۔اور پھر یہ کہ آپ دنیا کے لئے نمونہ ہیں اور آپ کے اقوال و افعال خدا کے اقوال و افعال ہیں۔پس آپؐکے متعلق یہ تصوّر ہی نہیں ہو سکتا کہ قرآن کریم نے کہیں یہ کہا ہو کہ آپؐگناہ گار ہیں۔کیونکہ آپؐتو دنیا کو گناہ سے چھڑانے کے لئے آئے تھے۔اگر آپؐخود ہی گناہ گار تھے تو دنیا کو گناہ سے کیسے آزاد کر واسکتے تھے۔پس وہ آیات جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذنب کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے معنے قرآن کریم کے بیان کی روشنی میں یہ نہیں کئے جا سکتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گناہ کے لئے استغفار کا حکم دیا گیا تھا بلکہ اس کے اور ہی معنے ہیں۔اب ان معنوں کو معلوم کرنے کے لئے ہم ان آیات پر یکجائی نظر کرتے ہیں جن میں ذنب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔چنانچہ وہ آیات حسب ذیل ہیں :۔۱۔اللہ تعالیٰ سورۃ مومن میں فرماتا ہے۔فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَ الْاِبْكَارِ (المؤمن :۵۶) ۲۔سورۃ محمدؐ میں یوں آیا ہے۔فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوٰىكُمْ (محمّد:۲۰) ۳۔تیسری آیت جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذنب کا لفظ استعمال ہواہے وہ سورۃ فتح کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا۔لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ يُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا( الفتح:۲،۳) ان آیات میں اور سورۃ محمدؐ اور مومن کی آیات میں لفظ ذنب کے استعمال میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ سورۃ محمد ؐ اور مؤمن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے کہ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ یعنی اپنے ذنب کے لئے