تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 28
منکسر المزاج اور رحیم و کریم اور صادق و وفا دار اور خیر خواہ خلائق ہو گئے۔یہ امر یقیناً آپ کی صداقت کا ثبوت تھا اور اس امر کی دلیل تھا کہ آپ کے ساتھ ملائکہ کی مدد ہے جو آپ کےساتھیوں پر اپنا اثر ڈال کر ان کو بھی ملائکہ بنا دیتے ہیں۔تیسری دلیل جو یہ بیان فرمائی کہ قانونِ قدرت بھی آپ کی مدد کرے گا اس کے اثرات بھی ظاہر تھے۔آپ کی تعلیم قانو نِ قدرت کے مطابق تھی اور اس میں وہ ازلی سچائیاں پائی جاتی تھیں جن کو فطرت صحیحہ ماننے سے باز نہیں رہ سکتی۔وہم اور ڈھکوسلہ کا نام نہ تھا۔ایک طرف خالص منطقی اور دوسری طرف خالص روحانی تعلیم جس نے عقل و روحانیت کے امتزاج سے ایسی چاشنی حاصل کر لی تھی کہ کوئی شخص ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے تعصب کی پٹی کو اتار کر رکھتا تھا تو وہ تیر کی طرح اس کے دل میں گھس جاتی تھی اور وہ اس کا شکا ر ہو جاتا تھا اس کی متعدد مثالیں مکہ والوں کے سامنے تھیں۔حضرت عمر ؓ آپ کے قتل کے لئے نکلے اور راستہ ہی میں آپ کی صداقت کے خنجر کا شکار ہو گئے اور گناہ گاروں کی طرح گلے میں ندامت کاپٹکا ڈال کر آپ کے سامنے حاضر ہوئے(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام اسلام عمر بن الخطاب ؓ)۔پس آئندہ جو ہو نے والا تھا وہ تو جب ظاہر ہو تا لوگ اسے دیکھتے جس وقت یہ سورۃ نازل ہوئی ہے اس وقت بھی اس کا ثبوت مکہ والوں کےسامنے موجود تھا کہ خدا تعالیٰ آپ کے لئے بول رہا ہے اس کے ملائکہ آپ کی مدد پر ہیں اور قانونِ قدرت آپ کی تائید کر رہا ہے۔پس فرماتا ہے کہ میں خدا تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں بھی، میرے ملائکہ بھی اور میرا قانون قدرت بھی اس کوکوثر عطا کرنے والے ہیں۔تم میری آواز نہیں سنتے تو کیا ملائکہ کی آواز بھی نہیں سنتے۔میرے فرشتوں کی آواز نہیں سنتے تو یہ بھی نہیں دیکھتے کہ دنیا کے تمام مذاہب اس وقت تَوہم پرستی اور خلافِ عقل عقیدوں میں مبتلا ہیں اور خلافِ فطرت اعمال میں مشغول ہیں مگر اس کے مقابل پر اس شخص کی تعلیم نہ تَوہم اور نہ خلاف عقل عقیدے بیان کرتی ہے اور نہ خلاف فطرت احکام پیش کرتی ہے۔پھر کیوں نہیں سمجھتے کہ اس کے مخالفوں کے گھر ویران ہوجائیں گے۔ان کے معبد سر نگوں ہوجائیں گے اور وہ طوعاً یا کرہاً آخر اس کےقدموں پر آگریں گے اور اسی کا زور اور اسی کا غلبہ ہو جائے گا پس یقین کرو کہ میں اور میرے فرشتے اور میرا قانون قدرت ہم سب اس رسول کو کوثر دینے والے ہیں وہ پھیلاؤ، وہ رفعت اور وہ بلندی جو کسی انسان کو نہ کبھی نصیب ہوئی نہ آئندہ ہوگی۔دوسراجواب یہ ہے کہ بادشاہ اپنے کلام میں مفرد کی جگہ جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔اس کے تتبع میں قرآن کریم میں بھی جہاں خدا تعالیٰ کی بادشاہت پر زور دینا مقصود ہو خدا تعالیٰ کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔بادشاہ جمع کا لفظ اس امر پر دلالت کرنے کے لئے بولتا ہے کہ میں یہ بات کہنے والا اکیلا نہیں تمام میرے ماتحت لوگ وہی کہیں گے جو میںکہوں گا اور وہی کریں گے جو میں کروں گا۔انہی معنوں میں اللہ تعالیٰ بھی لفظ جمع سے کبھی کبھی