تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 300
امر کی طرف مائل ہو جائے۔توان دونوں قوموں میں صلح کرادو۔مگرعدل سے اور انصاف سے کام لو۔اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ان آیات سے مندرجہ ذیل اصول مستنبط ہوتے ہیں :۔۱۔اگر دنیا میں کئی حکومتیں ہوں اور ان میں سے کسی دو حکومتوں میں اختلاف پیدا ہوجائے تو اسلامی اصول کی روشنی میں ان کا فرض ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ایسی لیگ بنائیں جو ان دونوں میں صلح کرائے۔۲۔اگر صلح ہو جائے تو بہتر ورنہ باقی حکومتوں کی پنچائت مل کر ایک عادلانہ فیصلہ دے جس کو ماننے کے لئے مخالف حکومت کو مجبور کیا جائے۔۳۔اگر ایسے فیصلہ کو کوئی فریق نہ مانے یا ماننے کے بعد اس پر عمل کرنے سے انکار کر دے تو ساری طاقتیں مل کر اس سے لڑیں اور اسے مجبور کریں کہ وہ دنیا کے امن کی خاطر حکومتوں کی پنچائت کے فیصلہ کو تسلیم کرے۔۴۔جب اس پنچائتی دبائو یا لڑائی سے وہ حکومت صلح کی طرف مائل ہو جائے تو یہ حکومتوں کی پنچائت بغیر کسی ذاتی فائدہ اٹھانے کے صرف اس امر کے متعلق فیصلہ نافذ کرے جس سے جھگڑے کی ابتدا ہوئی تھی۔اور مغلوب ہونے والی حکومت سے کوئی زائد فائدے اپنے لئے حاصل نہ کرے۔کیونکہ اس سے نئے فسادات کی بنیادیں قائم ہوتی ہیں۔یہ اصول ایسے زرّیں ہیں کہ ان اصولوں کی موجودگی میں دنیا کی جنگوں کے امکان بالکل کم ہو جاتے ہیں۔اور دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔پھر اسلام نے مذہبی آزادی پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ (البقرۃ:۲۵۷) دینی معاملات میں کوئی جبر نہیں ہونا چاہیے بلکہ پوری آزادی ہونی چاہیے۔جو شخص جبر سے دین میں داخل کیا جائے وہ بے شک ظاہراً تو جماعت میں داخل ہو سکتا ہے لیکن دل سے اس جماعت کے عقائد کا قائل نہیں ہوتا اور نہ دل سے ان کے ساتھ ہوتا ہے اور اسلام چونکہ دلائل سے قائل کرنے اور قلوب کو فتح کرنے کا حکم دیتا ہے۔اس لئے وہ لوگ جو دل سے اسلام کے قائل نہیں ہوتے اور دکھاوے کے لئے اسلام کو قبول کرتے ہیں ان کی برائی کو بیان کیا گیا ہے اور ان کو منافق کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔پس اسلام مذہبی آزادی پر زور دیتا ہے اور بار بار یہ تعلیم دیتا ہے کہ اصل فتح دلائل کی فتح ہے نہ کہ اجسام کی فتح۔