تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 271

کے لئے کسی عالم کے پاس گیا اور اس کے پاس جا کر کہا کہ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا کہ تیری توبہ قبول نہیں ہو سکتی۔اس شخص نے کہا کہ اگر میری توبہ قبول نہیں ہو سکتی تو میں تجھے بھی مار دوں گا ایک گناہ اور زیادہ ہو گیا تو پھر کیا ہوا۔یہ کہہ کر اس نے اس عالم کو قتل کر دیا۔پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا کوئی اور ایسا عالم ہے جس سے وہ مسئلہ دریافت کر سکے۔تو اسے ایک عالم شخص کا پتہ بتایا گیا۔وہ اس کے پاس پہنچا اور بتایا کہ اس نے سو قتل کئے ہیں۔کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ عالم نے جواب دیا۔کیوں نہیں۔کون ہے جو بندہ کے اور توبہ کے درمیان حائل ہو سکے۔لیکن شرط یہ ہے کہ تم فلاں جگہ چلے جاؤ۔وہاں کئی خدا کے بندے مل کر عبادت کر تے ہیں تم بھی ان کے ساتھ مل کر عبادت کرو اور اپنے ملک میںمت لوٹو۔کیونکہ وہ اچھی جگہ نہیں۔یہ سن کر وہ شخص اس جگہ پہنچنے کے لئے روانہ ہو گیا۔جب نصف راستہ پر پہنچا تو اس کو موت نے آلیا تب رحمت کے فرشتے بھی آگئے اور عذاب کے فرشتے بھی پہنچ گئے۔دونوں میں بحث شروع ہو گئی۔دوزخ والے فرشتے کہتے تھے کہ یہ شخص دوزخی ہے اسے توبہ ابھی نصیب نہیں ہوئی۔اور جنت والے فرشتے کہتے تھے کہ یہ جنتی ہے کیونکہ یہ توبہ کرنے کے لئے جا رہا تھا کہ راستہ میں مر گیا۔تب ان کے پاس ایک فرشتہ آیا اور انہوں نے اس کو منصف بنایا۔تو اس نے کہا کہ زمین کو ماپو۔جس طرف سے یہ شخص توبہ کرنے کے لئے چلا تھا اگر وہ جگہ قریب ہو تو یہ دوزخی ہے اور اگر وہ جگہ جہاں یہ توبہ کرنے کے لئے جا رہا تھا قریب ہے تویہ جنتی ہے تب اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ما تحت زمین کی طنابیں کھینچ دیں اور اس جگہ کو جہاں وہ توبہ کرنے کے لئے جارہا تھا زیادہ قریب کر دیا۔فرشتوں نے دونوں طرف کی زمین کو ماپا اور دیکھا کہ وہ زمین جس طرف یہ شخص توبہ کرنے کے لئے جا رہا تھا چھوٹی ہے۔خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ تب اسے جنت میں لے جاؤ۔اس تمثیل میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کو کسی حالت میں بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔اس کا اندازہ انسان نہیں لگا سکتا۔اور یہ کہ اسلام بھی ایسے ہی خدا کو پیش کرتا ہے جس کی رحمت کا پہلو ہمیشہ انسان کی طرف جھکا رہتا ہے۔چنانچہ خود اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اس کو پیش کرتا ہے۔فرماتا ہے رَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف:۱۵۷) کہ میری رحمت ہر ایک چیز پر وسیع ہے۔پھر فرمایا كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (الانعام:۱۳) کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت کو فرض کر لیا ہے۔یعنی یہ کہ اس کی رحمت کا پہلو زیادہ جھکا ہوا ہے۔پھر فرمایا وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ۔اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ(ھود:۱۱۹،۱۲۰) کہ اگر تیرا رب چاہتا تو سب لوگوں کو امتِ واحدہ بنا دیتا مگر وہ ہمیشہ مختلف رہیں گے۔سوائے ان کے جن پر تیرا رب رحم کرے اور اس نے ان لوگوں کو رحم کے لئے ہی پیدا کیا ہے وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ سے رحم ہی مراد ہے۔ابن کثیر نے