تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 265
میں یہ طاقت ہو کہ اپنی مرضی پر اس کو چھوڑ بھی دے تو پھر وہ خواہش غلبہ نہیں پاتی۔پس جب کوئی شخص روزوں میں ان تمام لذتوں کو جو اس کو بعض اوقات گناہ کی طرف کھینچتی ہیں خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑ دیتا ہے اور ایک مہینہ تک برابر اپنے نفس پر قابو پانے کی عادت ڈالتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان لالچوں کا مقابلہ آسانی سے کر سکتا ہے جو اسے گناہ کی طرف کھینچتے ہیں۔پھر تقویٰ کے قیام میں روزوں سے اس طرح مدد ملتی ہے کہ ان دنوں میں چونکہ روزوں کے ساتھ تہجد کا بھی التزام کرنا پڑتا ہے۔اس لئے دعاؤں اور عبادت کا زیادہ موقع مل جاتا ہے۔نیز جب بندہ خدا تعالیٰ کے لئے اپنے آرام کو چھوڑتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کی روح کو طاقت بخشتا ہے۔پھر روزہ کی ایک اور حکمت اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (البقرۃ:۱۸۶) کہ تم پر روزہ اس لئے فرض کیا گیا ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا اظہار کرو۔اس وجہ سے کہ اس نے تم کو سچا راستہ دکھایا ہے اور تاکہ تم میں شکر کرنے کا مادہ پیداہو۔یعنی ایک فائدہ تو یہ ہے کہ سارا دن کھانے پینے کے مشاغل سے فارغ رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ذکر کا زیادہ سے زیادہ موقع مل سکے گا۔دوسرے بھوک کی تکلیف محسوس کر کے تمہارے اندر شکر گذاری کا مادہ پیدا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سال بھر بھوکے رہنے کی تکلیف سے بچائے رکھا ہے۔(۳)اسی طرح حج ہے۔اس عبادت کی اغراض بھی روزے سے ملتی ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے وطن چھوڑنے کی عادت ڈالنی اور اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے الگ ہو نے کا خوگر ہونا اور عالمی و بین الاقوامی اخوت کے احساس کو پیدا کرنا اور مضبوط کرنا۔علاوہ ازیں قرآن کریم نے اس کی یہ حکمت بھی بتائی ہے کہ اس عبادت سے شعائر اللہ کی عظمت پیدا ہوتی ہے اور ان کی یاد تازہ رہتی ہے۔حج دراصل اس واقعہ کی یاد تازہ کرتا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو جنگل میں چھوڑ دینے کے سبب سے پیش آیا۔اور دوسرے خانہ کعبہ کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ سب سے پہلا گھر ہے جو خدائے واحد کی عبادت کے لئے بنایا گیا۔پس حج میں جا کر انسان کے سامنے وہ نقشہ کھنچ جاتا ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرنے والے بچائے جاتے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ عزت دیتا ہے اور حج کرنے والے کے دل میں خدا کا جلال اور اس کی ذات کا یقین بڑھتا ہے۔دوسرے وہ اپنے آپ کو اس گھرمیں دیکھ کر جو ابتدائے دنیا سے خدا تعالیٰ کی یاد کے لئے بنایا گیا