تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 215
طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد رسول اللہ ؐ کے منکرو!تم اتنے بڑے انعامات کو دیکھ کر بھی مسلمان نہیں ہوتے تو اتنا تو سوچو کہ محمد رسول اللہ ؐاور ان کے اتباع کے متعلق تم یہ کس طرح خیال کر سکتے ہو کہ تمہارے واہی اور کمزور عقائد اور تمہاری بے دلیل باتوں سے متاثر ہو کر وہ اپنادین چھوڑ دیں گے۔اگر وہم اپنے مقام کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تو مشاہدہ اپنے مقام کو کس طرح چھوڑ سکتا ہے۔پس تمہاری یہ سب کوششیں خلاف عقل ہیں۔ان حالات میں تو تم کو خاموش ہو کر بیٹھ جانا چاہیے تھا۔اور خدا تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں) قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ۰۰۲ (ہم ہر زمانہ کے مسلمان سے کہتے ہیں کہ )تُو(کفار سے )کہتا چلا جا (کہ) سُنو اے کافرو! لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ۰۰۳ میں تمہارے طریق عبادت کے مطابق عبادت نہیں کرتا۔وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُۚ۰۰۴ اور نہ تم میرے طریق عبادت کے مطابق عبادت کرتے ہو۔وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْۙ۰۰۵ اور نہ میں (ان کی )عبادت کرتا ہوں جن کی تم عبادت کرتے چلے آئے ہو۔وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُؕ۰۰۶ اور نہ تم (اس کی)عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔تفسیر۔اَلْکٰفِرُوْنَ سے مراد ہر زمانہ کے کافر ہو سکتے ہیں اَلْکٰفِرُوْنَ سے مراد