تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 202

لوگ عمل چھوڑ دیں گے۔آپ نے فرمایا بہت اچھا اعلان روک دو(مسلم کتاب الایـمان باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الـجنۃ قطعًا)۔گویا خود ہی ایک بات کہی اور پھر خود ہی فرما دیا کہ اس کی اشاعت نہ کرو۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ خوشخبری حضرت عمر ؓ کے متعلق ہی تھی اور چونکہ یہ بات ان کو پہنچ گئی اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اور لوگوں کو یہ بات نہ کہو مگر یہ درست نہیں۔درحقیقت اس کا مخاطب ہر مومن تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ جو شخص سچے دل سے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہے اور پھر اس پر عمل کرے وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص خدا کو بھی مانے اور پھر اس کے احکام پر عمل بھی نہ کرے اس کا مطلب یہی تھا کہ اگر کوئی شخص صدق نیت اور اخلاص کے ساتھ یہ کلمہ کہے تو وہ ضرور جنتی ہو گا۔یہ مطلب نہیں تھا کہ صرف منہ سے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہہ دینے سے انسان جنت میں چلا جاتاہے جیسے آج کل مسلمان خیال کرتے ہیں کہ منہ سے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہہ دیا تو پھر کسی عمل کی ضرورت نہیں۔بہر حال لوگوں کی غلط فہمی کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے حضرت عمر ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اس خیال کا اظہار کیا کہ یا رسول اللہ لوگ نقلی معنوں کو لے لیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اب کسی عمل کی ضرورت نہیں۔اس پر آپ نے خود ہی اس سے روک دیا۔اسی طرح حضرت عائشہ ؓ نے بھی خیال کیا کہ کہیں لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ سے لوگ یہ نہ سمجھ لیں کہ اسلام میں بڑے آدمی پیدا ہی نہیں ہوں گے اور نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے۔چنانچہ آپ نے لَا نَبِیَّ بَعْدِی کہنے سے روک دیا اور خَاتَمَ النَّبِیِّیْن چونکہ قرآن کریم کا لفظ تھا اور اس سے کوئی دھوکا نہیں لگ سکتا تھا آپ نے فرمایا تم خاتم النبیین بے شک کہو مگر یہ مت کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ ؓ یقین رکھتی تھیں کہ کلی طور پر نبوت کا انقطاع تسلیم کرنا اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ورنہ اگر ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہوتا تو پھر آپ کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ لَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ حالانکہ یہ الفاظ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔آپ نے اسی لئے یہ کہا کہ آپ کے نزدیک خاتم النبیین کے الفاظ زیادہ محفوظ تھے اور غلط فہمی کا امکان ان میں کم تھا اور پھر قرآنی الفاظ تھے۔پس آپ نے کہا کہ یہ لفظ بولا کرو اور دوسرے الفاظ یعنی لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ ایسے ہیں کہ جو ایک معنوں سے ٹھیک ہیں لیکن بعض دوسرے معنوں سے ان کی وجہ سے غلط فہمی ہوتی ہے اس لئے ان لفظوں کو عام طور پر استعمال نہ کیا کرو۔اس روایت پر بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ فرمائے ہیں تو حضرت عائشہ ؓ کو روکنے کا کیا حق تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ کا علم نہ ہو گا اس وجہ سے انہوں نے منع کیا اور اس قسم کا عدم علم کا فتویٰ قابل قبول نہیں ہوا کرتا۔