تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 201

ختم کردے اور میری شریعت کو منسوخ کرے۔مگر ایک عامی شخص یہ نتیجہ نکال لے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسا نبی بھی نہیں آسکتا جو آپ کا شاگرد ہو اور آپ کے دین کو قائم کرنے والا ہو۔یہی وجہ تھی کہ باوجوداس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا تھا لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا قُوْلُوْا خَاتَمَ النَّبِیِّیّنَ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ۔یہ نہ کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔حضرت عائشہ ؓ کا لوگوں کو لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کہنے سے روکنا تاکہ وہ کسی غلط عقیدہ پر قائم نہ ہو جائیں بالکل ویسا ہی ہے جیسے احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ اٹھ کر کہیں باہر تشریف لے گئے اور آپ کو واپس آنے میں بہت دیر ہو گئی۔صحابہ ؓ گھبرائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تشریف لے گئے ہیں۔ان دنوں شام کی طرف سے خطرہ تھا کہ کہیں عیسائی مدینہ پر حملہ نہ کر دیں۔اس لئے صحابہ ؓ کے دلوں میں خیال پیدا ہوا کہ کہیں دشمن نے حملہ نہ کر دیا ہو چنانچہ وہ ادھر اُدھر آپ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں آپ کی تلاش کرتے کرتے ایک باغ کی طرف چلا گیا۔دیکھا تو اس کا بڑا دروازہ بند تھا۔مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اور میں بلی کی طرح ایک سوراخ میں سے اندر گھس گیا۔دیکھا تو وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔میں نے کہا یا رسول اللہ ہم تو بہت گھبرا گئے تھے کہ نہ معلوم آپ کہاں تشریف لے گئے ہیں۔اب آپ کو دیکھا ہے تو جان میں جان آئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابو ہریرہ ؓ جاؤ اور جو بھی تم سے ملے اسے کہو مَنْ قَالَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْـجَنَّۃَ۔جو بھی لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہے گا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔حضرت ابو ہریرہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ۔اتنی بڑی بات کون مانے گا آپ مجھے اپنی کوئی نشانی دے دیں۔آپ نے اپنی جوتیاں انہیں دےدیں۔جب وہ دروازے سے نکلے تو حضرت عمر ؓ آرہے تھے۔حضرت ابو ہریرہ ؓ نے انہیں دیکھتے ہی کہا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہے کہ مجھے جو بھی ملے میں اسے یہ خوشخبری سنا دوں کہ مَنْ قَالَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْـجَنَّۃَ۔حضرت عمر ؓ نے یہ سنتے ہی ان کے سینہ پر زور سے ہاتھ مارا اور فرمایا تم لوگوں کا ایمان خرا ب کرنا چاہتے ہو۔حضرت ابو ہریرہ ؓ دوڑے دوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور عرض کیا یا رسول اللہ مجھے تو عمر ؓ نے مار ڈالا۔آپ ہی نے فرمایا تھا کہ جو تم سے ملے اسے کہہ دو کہ مَنْ قَالَ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْـجَنَّۃَ۔مگر عمر ؓ سے میں نے کہا تو انہوں نے مجھے تھپڑ مارا۔اتنے میں حضرت عمر ؓ بھی تشریف لے آئے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ کیا آپ نے ایسا فرمایا ہے کہ جو لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہے گا جنت میں داخل ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں۔حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ اس طرح تو کمزور