تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 161

کس طرح کھاتے تھے، کس طرح پہنتے تھے، اپنی بیوی کے ساتھ کس طرح پیار کرتے تھے، بچوں کے ساتھ آپ کا کیسا رویہ تھا، ہمسایوں اور رشتہ داروں کے ساتھ آپ کا کیسا معاملہ تھا، باہر سے آنے والی عورتوں کے ساتھ آپ کا کیسا معاملہ تھا۔غرض گھر میں آپ کوئی بھی حرکت کرتے بیویاں اس کو بیان کر دیتیں۔آپ باہر تشریف لے جاتے تو وہاں ابو ہریرہ ؓ جیسے صحابی موجود ہوتے جنھوں نے قسمیں کھا رکھی تھیں کہ وہ آپ کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے اور آپ کی ہر بات کو یاد رکھیں گے اور دوسروں سے بیان کریں گے۔ہر بات جو آپ بیان کرتے ہرحرکت جو آپ کرتے صحابہ اسے یاد کر لیتے اور پھر دوسرے لوگوں سے بیان کرتے۔کسی نے آپ سے سوال کیا ہو۔آپ نے سختی کی ہو یا نرمی کی ہو۔کسی سے کوئی معاملہ کیا ہو۔کسی نے آپ سے کوئی چیز مانگی ہو۔آپ نے کسی کو کوئی چیز عطا کی ہو۔کوئی چندہ لایا ہو۔یہ سب واقعات آپ کے صحابہ ؓ نے بیان کر دیئے ہیں۔غرض آپ کی زندگی کا کوئی پہلو بھی پوشیدہ نہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صرف ۳۳سال زندگی تسلیم کی جاتی ہے۔مگر آپ کی ۳۳ سالہ عمر کے واقعات بھی انجیل میں پوری طرح بیان نہیں کئے گئے۔درمیان میں کئی کئی مہینوں کا بلکہ کئی کئی سالوں کا خلا آجاتا ہے۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں، ایلیاؑ ہیں، سلیمانؑ ہیں، زکریاؑ ہیں اور دوسرے انبیاء ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے یا تورات میں ان کا ذکر آیا ہے۔ان میں سے کوئی بھی نبی ایسا نہیں جس کا وجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی طرح تاریخی ہو۔پھر ان انبیاء کو لے لو جن کا تورات اور قرآن کریم میں تو ذکر نہیں مگر ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے اپنے وقت کے مامور اور مرسل تھے۔مثلاً کرشن علیہ السلام ہیں، رامچندر علیہ السلام ہیں، بدھ علیہ السلام ہیں، زردشت علیہ السلام ہیں۔ان کی بھی ساری زندگی کے حالات ہمیں نہیں ملتے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایک فعل ہمارے سامنے آگیا ہے جیسے کوئی کوٹ کو پھاڑ کر دکھا دے کہ اس کے اندر کی تہیں بھی ایسی ہیں جیسے اس کے باہر کا حال ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے مزکّٰی تھے اور بوجہ اس کے کہ آپ سب سے بڑے مزکّٰی تھے۔آپ سب سے بڑے مزکّٰی بھی تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں جس قدر باتوں کا مطالبہ کیا گیا تھا اور جس کی قبولیت کا سورۂ بقرہ میں اعلان کیا گیا تھا اس دعا کے متعلق اللہ تعالیٰ اس سورۃ کوثر میں فرماتا ہے کہ وہ دعا صرف قبول ہی نہیں ہوئی بلکہ اس شان اور عظمت سے پوری ہوئی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی اس سے کوئی نسبت ہی نہیں رہی۔گویا اللہ تعالیٰ نے صرف دعائے ابراہیمی کو ہی پورا نہیں کیا بلکہ آپ کو کوثر عطا