تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 152

خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے گا اسے بھی معاف کر دیا جائے گا۔جو گھر کے دروازے بند کر لے گا اسے بھی معاف کر دیا جائے گا اور آپ کے فلاں جر نیل نے کہا ہے کہ ہم تم لوگوں کا سر کچلنے کے لئے جا رہے ہیں۔آپ نے فرمایا مکہ والوں کو کوئی ذلیل نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ نے جنہیں عزت دی ہے انہیں کون ذلیل کر سکتا ہے۔پھر آپ نے اس کمانڈر کو بلایا اور اسے معزول کر دیا۔اس لئے کہ اس نے ابو سفیان کا دل دکھایا ہے اور اس کمانڈر کا بھی لحاظ رکھا کہ اس نے اسلام کی محبت کے جوش میں یہ بات کی تھی اور اسی کے بیٹے کو اس کی جگہ کمانڈر مقرر کر دیا(السیرۃ الحلبیۃ فتح مکۃ) عین حملہ کے وقت ایک کمانڈر کا بدل دینا اس لئے کہ اس نے کسی دشمن کی دل شکنی کی ہے یہ معمولی چیز نہیں۔ایسا کرنے سے بسا اوقات لشکر میں بغاوتیں ہو جاتی ہیں مگر آپ نے کوئی پروا نہ کی اور اس نازک موقعہ پر بھی آپ نے اپنے خلق عظیم کا ایسا نمونہ دکھایا جس کی مثال کوئی اور نبی پیش نہیں کر سکتا۔(۲۰)فتح مکہ کے موقعہ پر جس عفو و کرم سے آپ نے کام لیا اور اپنے جانی دشمنوں کو لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہا۔وہ بھی آپ کے اخلاق فاضلہ کی ایک بہترین مثال ہے لیکن اس سلسلہ میں ایک اور چیز بھی ہے جس کی طرف عام طور پر توجہ نہیں کی جاتی۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے علم النفس کا بہت ماہر ہوں۔یوں تو میں پرائمری پاس بھی نہیں مگر علم النفس کے ماہر لوگ بھی گفتگو میں مجھ سے خدا تعالیٰ کے فضل سے دبتے ہیں اور وہ سینکڑوں کتابیں پڑھ لینے کے بعد بھی میرے علم النفس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔میں نے دیکھا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی علم النفس کے لحاظ سے ایک ایسی شاندار مثال ملتی ہے کہ اگر چہ وہ بظاہر چھوٹی سی ہے مگر علم النفس کے ماتحت وہ نہایت عظیم الشان چیزہے اور وہ یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آپ نے حضرت بلال کو جھنڈا دیا اور فرمایا جو شخص اس کے جھنڈے تلے آجائے گا اسے معاف کر دیا جائے گا۔علم النفس کے لحاظ سے آپ کے اخلاق فاضلہ کی یہ ایک زبردست مثال ہے ہر شخص جانتا ہے کہ حضرت بلالؓایک غلام تھے اور غلامی کی حالت میں ان کا آقا ان کو سخت تکالیف اور دکھ دیاکرتا تھا،پتھروں پر گھسیٹتا تھا، گرم ریت پر لٹا تا تھا اور جو تیوں سمیت ان کے سینہ پر چھلانگیں مارتا اور کودتا اور کہتا کہ تم اقرار کرو کہ بتوں میں بھی طاقت ہے مگر وہ ان سب تکالیف کے باوجود یہی کہتے کہ اَسْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ خدا تو ایک ہی ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔حضرت بلال ؓ پر جو ظلم ہوئے تھے اور جو ایذائیں ان کو دی گئیں تھیں ان کو دیکھتے ہوئے یقیناً وہ خیال کرتے ہوں گے کہ جب اسلام کو فتح حاصل ہو گی تو میں ان کفار سے بدلہ لوں گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے مسلمان بھی میرا بدلہ بڑی سختی سے کفار سے لیں گے۔یہ ایک قدرتی بات تھی جو ان کے دل میں پیدا ہوئی ہو گی۔لیکن جب فتح مکہ ہوئی اور