تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 151

سے بے ہوش ہو گئے ہیں یا فوت ہو گئے ہیں۔آپ گھبرائے اور صحابہؓ کو بلا کر کہا عباسؓکی آواز کیوں نہیں آتی انہوں نے جواب دیا۔یارسول اللہ عباسؓکے کراہنے کی آواز آرہی تھی جس سے ہم نے محسوس کیا کہ آپ کو تکلیف ہو رہی ہے اس لئے ہم نے عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دی ہیں۔یہ آپ کی مرضی کی بات تھی اور چاہیے تھا کہ آپ خوش ہوتے مگر آپ نے فرمایا میں یہ برداشت نہیں کر سکتا یا تو سب قیدیوں کی رسیاں ڈھیلی کر دی جائیں اور یا پھر عباسؓکی رسی بھی ڈھیلی نہ کی جائے۔تکلیف اٹھائیں تو سب اٹھائیں اور آرام پائیں تو سب پائیں۔اگر ایک کو آرام دیا گیاہے تو دوسروں کو بھی یہی آرام ملنا چاہیے۔گویا پہلے تو آپ حضرت عباسؓکی تکلیف کو برداشت نہ کر سکے اور جب ان کی رسیاں ڈھیلی کر دی گئیں تو پھر آپ یہ برداشت نہ کر سکے کہ آپ کے چچا کی رسیاں تو ڈھیلی کر دی جائیں اور دوسرے قیدیوں کی رسیاں ڈھیلی نہ کی جائیں۔اس طرح آپ نے اپنے عمل سے مساوات اسلامی کا ایک شاندار نمونہ قائم کر دیا۔(اسد الغابۃ عباس بن عبد المطلب ) (۱۹) جب فتح مکہ ہوئی اور آپ مکہ میں تشریف لائے تو ایک عجیب نظارہ دیکھنے میں آیا۔ابو سفیان کو مکہ کے باہر ہی قید کر لیا گیا تھا لیکن آخر ر سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی کہ مکہ میں جاکر اعلان کر دو کہ جو شخص خانہ کعبہ کے اندر آجائے گا اس کو معاف کر دیا جائے گا۔جو ابو سفیان کے گھر چلا جائے گا اس کو معاف کر دیا جائے گا جو بلالؓ کے جھنڈے تلے آجائے گا اسے معاف کر دیا جائے گا اور جو اپنے گھروں کے دروازے بند کر لیں گے انہیں بھی معاف کر دیا جائے گا جب صبح کے وقت لشکر مکہ کی طرف چلا تو ابو سفیان نے جو حضرت عباسؓ کے دوست تھے آپ سے کہا کہ مکہ جانے سے پہلے مجھے ذرا اپنے لشکر کا نظارہ تو کرادو۔انہوں نے یہ بات مان لی اور ابوسفیان کو ایک جگہ پر بٹھا دیا گیا تاکہ وہ لشکر اچھی طرح دیکھ سکیں۔ابو سفیان کے آگے سے جو لشکر بھی گذرتا۔وہ کہتا یہ فلاں قوم معلوم ہوتی ہے۔حضرت عباسؓ فرماتے ٹھیک ہے اسی طرح جو لشکر نکلتا ابو سفیان پہچان لیتا اور کہتا یہ فلاں قوم ہے یہ فلاں قوم ہے۔اتنے میں ایک بڑا لشکر ابو سفیان کے سامنے سے گذرا۔ابو سفیان نے حیرت سے پو چھا۔عباسؓ یہ کون لوگ ہیں؟انہوں نے بتایا یہ انصارؓ ہیں جو مدینہ کے رہنے والے ہیں۔یہ بات انصاری لشکر کے کمانڈر نے جو ایک انصاری ہی تھے سن لی اور انہوں نے جوش میں آکر کہا۔تم پوچھتے ہو ہم کون ہیں۔ہم انصار ہیں اور تھوڑی دیر میں ہی تم لوگوں کا سر کچلنے کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ابو سفیان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوڑا دوڑا گیا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ نے تو مجھے معاف کر دیا ہے بلکہ یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جو شخص میرے گھر میں داخل ہو جائے گا اسے بھی معاف کر دیا جائے گا۔جو بلالؓکے جھنڈے تلے آجائے گا اسے بھی معاف کر دیاجائے گا جو