تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 139
بتاتے ہیں کہ ہمیں یہ الہام ہو اہے یہ خواب آئی ہے مگر آپ کے پاس جبریل آتا ہے اور وہ کہتا ہے اِقْرَاْ پڑھ۔تو آپ فرماتے ہیں مَا اَنَا بِقَارِئٍ میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔تین دفعہ آپ نے یہی کہا۔مگر جب آپ نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس بات پر اصرار ہو رہا ہے تو پھر آپ نے حکم کی تعمیل کی اور ایسی جرأت سے کی کہ آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح یہ نہیں کہا کہ میرے رب مجھے کوئی اور ساتھی دے بلکہ آپؐنے اکیلے ہی اس بوجھ کو اٹھالیا اور مدد کے لئے کوئی ساتھی نہیں مانگا۔(۷) پھر جب آپ نے اپنا دعویٰ لوگوں کے سامنے پیش کیا تو آپ کی غیر معمولی مخالفت ہوئی اور اس کے مقابلہ میں آپ نے غیر معمولی صبر کا نمونہ دکھایا۔آپ پر طرح طرح کے ظلم ہوئے۔قسم قسم کی تکلیفیں آپ کو دی گئیں مگر آپ نے اس خاموشی کے ساتھ انہیں برداشت کیا کہ حیرت آتی ہے۔ایک دفعہ آپ خانہ کعبہ کے باہر ایک پتھر پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو جہل آیا اور اس نے آپ کو بے تحاشا گالیاں دینی شروع کر دیں۔آپ نے اپنے گال پر ہاتھ رکھا ہو اتھا۔وہ گالیاں دیتا رہا اور آپ خاموشی سے سنتے رہے۔جب اس کی گالیوں کا آپ نے کوئی جواب نہ دیا تو ابو جہل کا غصہ اور بھی تیز ہو گیا۔اس کے ہاتھ میں ایک سوٹی تھی اس نے وہ سوٹی آپ کو ماری اور ساتھ ہی اور زیادہ گالیاں دینی شروع کر دیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی ہاتھ نہیں اٹھایا صرف اتنا کہا کہ میں نے آپ کا کیا قصور کیاہے صرف خدا تعالیٰ کا پیغام ہی آپ لوگوں تک پہنچاتا ہوں۔لیکن اس کا جوش ٹھنڈا نہ ہوا اور وہ آپ کو برابر گالیاں دیتا چلا گیا اور آخر تھک کر واپس چلا گیا۔حضرت حمزہ ؓ کی ایک لونڈی تھی وہ یہ شور سن کر باہر نکل آئی اور اس نے گھر کے دروازہ سے یہ سارا نظارہ دیکھ لیا۔اس کو یہ ظلم دیکھ کر سخت دکھ ہوا اور غصہ میں وہ ابلتی رہی۔حضرت حمزہ ؓ شکار کرنے گئے ہوئے تھے۔آپ کی زندگی سپاہیانہ تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں تو انہوں نے سنی ہوئی تھیں مگر ان پر کبھی غور نہیں کیا تھا بس رات دن شکار میں لگے رہتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ مزے کی زندگی ہے۔شام کو اکڑتے ہوئے آپ شکا ر سے واپس آئے۔کمان کندھے پر تھی ہاتھ میں شکار تھا اور آپ گھر میں اس طرح داخل ہورہے تھے جیسے کوئی جرنیل میدان مار کر گھر آتا ہے۔وہ لونڈی اسی انتظار میں تھی کہ حمزہؓ شکار سے واپس آئیں تو میں ان سے بات کروں۔پرانی لونڈیاں گھروں میں زیادہ دیر رہنے کی وجہ سے رشتہ داروں کی طرح ہو جاتی تھیں اور بے تکلفی سے بات کر لیتی تھیں۔اس لونڈی نے آپ کو دیکھ کر کہا۔بڑے بہادر بنے پھرتے ہیں جانور مارنا بھی کوئی کا م ہے ایسا تو ہر کوئی کر سکتا ہے۔آج تمہارے بھتیجے کو ابو جہل نے گالیاں دیں اور مارا اور وہ خاموشی کے ساتھ بیٹھا رہا۔اس نے اُف تک نہیں کی۔مگر تم اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور ہر وقت شکار کے خیال میں لگے رہتے ہو۔