تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 138
نے آپ میں دیکھا ہے اس کی وجہ سے آپ مجھے سب سے زیادہ پیارے ہیں۔زید ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن چھوٹی عمر میں ان کو ڈاکو اٹھا لائے اور انہوں نے آپ کو آگے بیچ دیا۔اس طرح پھرتے پھراتے وہ حضرت خدیجہؓ کے پاس آگئے۔آپ کے باپ اور چچا کو بہت فکر ہوا اور وہ آپ کی تلاش میں نکلے۔انہیں پتہ لگا کہ زید روما میں ہیں۔وہاں گئے تو پتہ لگا کہ اب عرب میں ہیں، عرب آئے تو پتہ لگا کہ مکہ میں ہیں مکہ میں آئے تو پتہ لگا کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں۔وہ آپؐکے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ کے پاس آپ کی شرافت اور سخاوت سن کر آئے ہیں۔آپؐکے پاس ہمارا بیٹا غلام ہے اس کی قیمت جو کچھ آپ مانگیں ہم دینے کے لئے تیار ہیں آپ اسے آزاد کر دیں اس کی ماں بڑھیاہے اور وہ جدائی کے صدمہ کی وجہ سے رو رو کر اندھی ہو گئی ہے۔آپ کا بڑا احسان ہو گا اگر آپ منہ مانگی قیمت لے کر اسے آزاد کر دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ کا بیٹا میرا غلام نہیں میں اسے آزاد کر چکا ہوں پھر آپ نے زید کو بلایا اور فرمایا تمہارے ابا اور چچا تمہیں لینے کے لئے آئے ہیں تمہاری ماں بڑھیا ہے اور رو رو کر اندھی ہو گئی ہے۔میں تمہیں آزاد کر چکا ہوں تم میرے غلام نہیں ہو تم ان کے ساتھ جا سکتے ہو۔حضرت زید ؓ نے جواب دیا آپ نے تو مجھے آزاد کر دیاہے مگر میں تو آزاد ہو نا نہیں چاہتامیں تو اپنے آپ کو آپ کا غلام ہی سمجھتا ہوں۔آپ نے پھر فرمایا تمہاری والدہ کو بہت تکلیف ہے اور دیکھو تمہارے ابا اور چچا کتنی دور سے اور کتنی تکلیف اٹھا کر تمہیں لینے آئیں ہیں تم ان کے ساتھ چلے جاؤ۔زید ؓ کے والد اور چچا نے بھی بہت سمجھایا مگر حضرت زید نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور فرمایاآ پ بے شک میرے باپ اور چچا ہیں اور آپ کو مجھ سے محبت ہے مگر جو رشتہ میرا ان سے قائم ہو چکا ہے وہ اب ٹوٹ نہیں سکتا۔مجھے یہ سن کر کہ میری والدہ سخت تکلیف میں ہیں بہت دکھ ہوا مگر ان سے جدا ہو کر میں زندہ نہیں رہ سکوں گا۔جب زید ؓ نے یہ باتیں کیں تو آپ خانہ کعبہ میں تشریف لے گئے اور اعلان کیا کہ زید نے جس محبت کا ثبوت دیا ہے اس کی وجہ سے آج سے وہ میرا بیٹا ہے۔اس پر زید ؓکا باپ اور چچا دونوں خوش خوش واپس چلے گئے۔کیونکہ انہوں نے دیکھ لیاکہ وہ نہایت آرام اور سکھ کی زندگی بسر کر رہا ہے۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال اخلاق کا یہ ثبوت ہے کہ جب زید ؓ نے وفاداری کا مظاہرہ کیا تو آپؐنے غیر معمولی احسان مندی کا ثبوت دیا۔( الطبقات الکبرٰی لابن سعد طبقات البدریین من المھاجرین ذکر الطبقۃ الاولٰی ذکر زید الـحب) (۶) پھر جب آپ پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے غیر معمولی انکسار کا ثبوت دیا۔ہم دیکھتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو اگر کوئی الہام ہو تا ہے یا کوئی خواب آجاتی ہے تو وہ بے تحاشا دوسرے کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور اسے