تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 105

بات ہے کہ جب حاکم پبلک کا منتخب شدہ ہو گا تو بلاوجہ ان کی رائے کے خلاف نہیں چلے گا۔وہ اسی وقت ان کی کثرت رائے کو رد کرے گا جب وہ اس تجویز کو قومی اور ملکی مفاد کے خلاف سمجھے گا۔اور ایسا قدم وہی شخص اٹھائے گا جو بڑا دیانتدار او رخدا رسیدہ ہو۔غرض اسلام نے مشورہ کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ ( اٰلِ عمران:۱۶۰) تُو ان سے اہم امور میں مشورہ لے۔اور یہ چیز کسی دوسرے مذہب میں نہیں پائی جاتی۔ڈیماکریسی جس کے آج جمہوریت والے دعوے دار ہیں اس کو درحقیقت صحیح معنوں میں اسلام نے ہی قائم کیا ہے اور اس میں کوئی مذہب اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اسلام کی دشمنوں کے متعلق تعلیم اب ہم اسلام کی اس تعلیم پر نظر ڈالتے ہیں جو اس نے دشمنوں کے متعلق دی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی دنیا کی ہدایت کے لئے انبیاء آتے ہیں تو بعض لوگ ان پر ایمان لاتے ہیں اور بعض ان کے دشمن بن جاتے ہیں۔یہ دوستی اور دشمنی کا سلسلہ صرف انبیاء کی جماعتوں سے مخصوص نہیں۔سیاسی جماعتوں کو ہی لے لو بعض قومیں ان کی دوست ہوں گی اور بعض دشمن بن جائیں گی۔لیکن کوئی مذہب ایسا نہیں جس نے دوست اور دشمن دونوں کے حقوق بیان کئے ہوں۔صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے دوستوں کے متعلق بھی قواعد بیان کئے ہیں اوردشمنوں کے متعلق بھی قواعد بیان کئے ہیں۔تورات میں آتا ہے کہ جب تُو اپنے دشمن کے گھرمیں گھسے تو تُو تمام بالغ مردوں کو قتل کر دے اور عورتوں اور بچوں کو قید کر لے۔بلکہ بعض حالات میں تو یہاں تک حکم ہے کہ ان کے جانور بھی ذبح کر دیئے جائیں(استثناء باب ۲۰ آیت۱۰ تا ۱۶) گویا اس تعلیم میں تشدد کی انتہا ہے لیکن اسلام نے جو تعلیم دی ہے وہ نہایت ہی منصفانہ اور اعلیٰ درجہ کی ہے۔مثلاً لڑائی کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ (البقرۃ:۱۹۱) تم ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑ رہے ہیں۔جو شخص تمہارے مقابلہ میں تلوار نہیں اٹھاتا تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم اس سے لڑو اور اس پر تلوار اٹھاؤ۔پھر ان لڑنے والوں کو بھی اسلام نے یہ اجازت نہیں دی کہ وہ کسی عورت پر وار کریں خواہ وہ عورت جنگ میں شامل ہی کیوں نہ ہو سوائے نہایت اہم استثنائی حالات کے۔چنانچہ تاریخ میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے میدانِ جنگ میں دیکھا کہ کفار میں سے ایک شخص لوگوں کو لڑائی کے لئے بھڑکا رہا ہے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے اور ان کو قتل کرنے کے لئے جوش دلاتا ہے۔چنانچہ آپ اس کی طرف بڑھے اور چاہا کہ اس پر وار کریں مگر ابھی آپ نے وار نہیں کیا تھا کہ آپ نے محسوس کیا کہ وہ عورت ہے جومردوں کے لباس میں ملبوس ہے۔آپ فوراً واپس آگئے۔ان کے ساتھیوں نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا کیا اسے چھوڑ کیوں دیا۔انہوں نے کہا میں جب اس کے پاس گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ