تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 104

نوجوان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس نے عرض کیا کہ میں فلاں لڑکی سے شادی کرناچاہتا ہوں اور تو مجھے سب باتیں پسند ہیں میں صرف لڑکی کو دیکھنا چاہتا ہوں میں نے لڑکی کے باپ سے اس کا ذکر کیا تھا مگر اس نے لڑکی دکھانے سے انکار کر دیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے جو کچھ کیا ہے غلط کیا ہے۔شادی کے متعلق اگر سب باتیں طے ہو گئی ہیں تو تم لڑکی کو دیکھ سکتے ہو۔وہ نوجوان پھر گیا اور لڑکی کے باپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنایا۔اس نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہو گا مگر میری غیرت یہ برداشت نہیں کر تی خواہ تم شادی کرو یا نہ کرو۔میں تمہیں لڑکی دیکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔یہ باتیں اندر لڑکی بھی سن رہی تھی جب اس کے باپ نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو گا مگرمیری غیرت یہ بات برداشت نہیں کر سکتی تو وہ پردہ ہٹا کر باہر آگئی اور لڑکے سے مخاطب ہو کر کہنے لگی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم مجھے دیکھ سکتے ہو تو میرا باپ کون ہے جو اس میں روک بنے۔میں سامنے کھڑی ہوں تم مجھے دیکھ لو۔اس چیز کا اس نوجوان پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے نظریں نیچی کر لیں اور اس لڑکی کی طرف نہیں دیکھا اور بولا کہ جس لڑکی کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی محبت ہے کہ وہ اس کے مقابلہ میں اپنے باپ کی محبت کو بھی ٹھکرا سکتی ہے میں اس سے بن دیکھے ہی شادی کر نا چاہتا ہوں۔چنانچہ اس نے بن دیکھے ہی اس سے شادی کر لی۔غرض ایک طرف اسلام نے پردہ رکھ کرمسلمانوں کو ان فتنوں سے بچایا ہے جو عورت کی وجہ سے پیدا ہو سکتے تھے تو دوسری طرف اندھا دھند شادی کرلینے سے جو خرابیاں پید اہو سکتی ہیں مثلاً رنگ، نقش اور شکل کی وجہ سے ان کو یہ کہہ کر دور کر دیا کہ شادی سے پہلے اگر لڑکی کو دیکھ لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔پھر حکومت کے حقوق ہیں۔قرآن کریم نے ان کو بھی بیان کیا ہے۔حاکم کو کیا کیا اختیار ہوتے ہیں۔کس حد تک وہ اپنی رعایا کو حکم دے سکتا ہے اور کس جگہ وہ حکم نہیں دے سکتا۔یہ تمام قواعد اسلام نے پوری تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہیں۔پھر اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ حکومت انتخابی ہونی چاہیے۔دنیا کے کسی اور مذہب نے انتخابی حکومت کو پیش نہیں کیا۔پھر اسلام نے حاکم کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ پبلک کی رائے کا احترام کرے۔ہاں اگر اس رائے سے دین یا ملک پر کوئی زد پڑتی ہو تو وہ اس کے خلاف بھی فیصلہ دے سکتا ہے۔بعض حکمران کہہ دیتے ہیں کہ ہم پبلک کے منتخب شدہ ہیں۔اس لئے ہمیں رائے لینے کی ضرورت نہیں۔اسلام اس کو جائز قرار نہیں دیتا۔اس کے نزدیک پھر بھی ایک کمیٹی بنانی پڑے گی جو مشورہ دے گی اور اس کمیٹی کی اکثریت کی رائے کا وہ حاکم پابند ہو گا۔سوائے اس کے کہ وہ کسی مشورہ کومصلحت کے خلاف سمجھے تب وہ اس کمیٹی کے مشورہ کے خلاف بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔یہ صاف