تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 89

کہ اس طرح مالکوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ بجائے اس کے کہ زید کا نوکر زید کے پاس جائے، بکر کا نوکر بکر کے پاس جائے، خالد کا نوکر خالد کے پاس جائے اور انفرادی رنگ میں اپنا مطالبہ پیش کر ے سب اکٹھے ہو جائو اور مل کر اپنے حقوق کا سوال اٹھا ئو۔چنانچہ زید کا نوکر اور بکر کا نوکر اور خالد کا نوکر اور سلیم کا نوکر اور حامد کا نوکر سب اکٹھے مل جاتے ہیں اور وہ اپنی ایک ایسوسی ایشن قائم کر لیتے ہیں۔جب کسی مطالبہ کا وقت آئے تو سارے نوکر مل جاتے ہیںاور متحدہ طور پر اپنے حقوق کے متعلق شور مچانا شروع کر دیتے ہیں مثلاً تنخواہ بڑھانے کا سوال ہو تو بجائے اس کے کہ زید کا نوکر زید سے، بکر کا نوکر بکر سے اور خالد کا نوکر خالد سے الگ الگ مطالبہ کرے سب مل کر اپنے مالکوں کے سامنے متحدہ طور پر مطالبہ رکھ دیتے ہیں۔اور مالک مجبور ہو جاتے ہیں کہ ان کے حق کو تسلیم کریں۔پس فرماتا ہے يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا اس دن انفرادی جدوجہد کی بجائے تما م لوگ جتھہ بندی کر کے آئیںگے اور اس لئے آئیںگے لِيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ تا کہ ان کے اعمال ان کو دکھائیںجائیں۔یعنی ان کے فعل کا نتیجہ نکل آئے۔انفرادی رنگ میںکوشش کرنے سے چونکہ ہر شخص کی طاقت ضائع چلی جاتی تھی اور کوئی اچھا نتیجہ برآمد نہیںہوتا تھا اس لئے وہ اس دن جتھہ بندی اور پارٹی سسٹم کی طرف مائل ہو جائیںگے اور متحدہ محاز قائم کر کے اپنے مطالبات پیش کریں گے تا کہ ان کی آواز میںاثر پیدا ہو اور وہ مطالبات جو ان کی طرف سے پیش کئے جائیں ان کو قبول کرنے کے لئے دوسرے لوگ تیار ہوں چنانچہ دیکھ لو کنسرویٹو، لبرل، لیبر، ڈیموکریٹ، ری پبلکن، راڈیکل، نہلسٹ، نیشنلسٹ، سوشلسٹ، ناٹسی، فاسی، فلانجے، کمیونسٹ، مہاسبھا، کانگریسی، مسلم لیگی، یونی نسٹ، وفدسٹ، سعد سٹ وغیرہ وغیرہ ہزاروں پارٹیاں دنیا میںبن رہی ہیں اور سب ایک ہی وجہ بتاتے ہیں کہ بغیر جتھہ کے اچھا نتیجہ نہیں نکل سکتا۔اجتماعی جدو جہد پس فرماتا ہے يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ۔لوگ اس زمانہ میں پارٹیاں بنا کر اس لئے کام کریں گے تا کہ ان کے کاموں کے اچھے نتیجے نکلیں۔بے شک یہ خیالات دنیا میں پہلے بھی موجود تھے اور یہی چیزیں جو آج دنیا میں نظر آتی ہیںپہلے بھی پائی جاتی تھیں۔پہلے بھی کئی مزدور تھے جو یہ کہا کرتے تھے کہ غریبوں کو کوئی پوچھتا نہیںاور کئی آقا اپنے ملازموں سے کہا کرتے تھے کہ اگر تم نے ذرا بھی گستاخی کی تو تمہیں کان پکڑکر نکال دیا جائے گا۔مگر پہلے زمانہ اور اس زمانہ میںفرق یہ ہے کہ پہلے پارٹی بازی اور جتھہ بندی نہیں تھی اب ہر گروہ نے اپنی الگ الگ تنظیم کر کے الگ الگ سوسائٹیاں قائم کر لی ہیں۔ایک طرف ایمپلائز ایسوسی ایشن