تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 69
۱) حقیقی بلا واسطہ وحی۔کہ خدا تعالیٰ کا کلام بندہ پر بغیر کسی واسطہ کے نازل ہو (۲) دوسری جسے قرآن نے تیسرے درجہ پر رکھا ہے مگر میں تقریب تفہیم کے لئے اسے پہلے بیان کردیتا ہوں وہ حقیقی بالواسطہ وحی ہے جس میں خدا تعالیٰ اپنا کلام فرشتے پر نازل کرتا ہے اور فرشتہ بندے تک پہنچاتا ہے۔(۳) تیسری تابع وحی ہے جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے الفاظ نازل نہیں ہوتے بلکہ مضمون کو تعبیر طلب امثال میں یا بے تعبیر طلب نظارہ میں دکھایا جاتا ہے اور اس کو لفظوں میں تبدیل کرنا بندہ کے سپرد کردیا جاتاہے۔چونکہ حقیقت حجاب کے پیچھے مخفی ہوتی ہے اس لئے انسان جب تعبیر طلب تمثیل یا نظارہ دیکھتا ہے تو وہ اپنے قیاس سے کام لے کر حقیقت کو اپنے الفاظ میں بیان کردیتا ہے اور کہتا ہے مجھے خدا نے یوں بتایا ہے۔فرض کرو وہ لوگوں سے کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ تیرا لڑکا کامل ہوجائے گا تو یہ ضروری نہیں کہ خدا نے اسے یہ خبر ان الفاظ میں ہی دی ہو کہ ’’تیرا لڑکا کامل ہوجائے گا‘‘ بلکہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ نظارہ دکھایا ہو کہ وہ اپنے بچے کو ذبح کررہا ہے۔چونکہ یہ نظارہ مشابہ ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعہ سے اس لئے گو اسے نظارہ یہ دکھایا گیا ہو کہ وہ اپنے بچے کو ذبح کررہا ہے مگر وہ اسماعیلی واقعہ پر قیاس کرکے اس وراء حجاب کلام کو تعبیری زبان میں بیان کرتے ہوئے کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ میرا لڑکا بہت بڑا مقام حاصل کرنے والا ہے یا وہ بڑے رتبہ پر پہنچ جائے گا۔اب جہاں تک الفاظ کا تعلق ہے وہ اس کے اپنے ہیں اللہ تعالیٰ نے اسے ان الفاظ میں خبر نہیں دی کہ ’’تیرا لڑکا کامل ہوجائے گا‘‘ یا ’’ بڑے رتبہ پر پہنچ جائے گا‘‘ اس نے صرف یہ نظارہ دکھایا ہے کہ وہ اپنے بچے کو ذبح کررہا ہے مگر یہ اس کی تعبیر کرتا اور لوگوں میں اس کا اعلان کردیتا ہے۔اب اگر اس کی تعبیر سو فی صدی درست ہو تب بھی وہ قسم کھا کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے کہاہے کہ ’’تیرا بچہ ایک کامل شخص ہوگا‘‘۔وہ قسم کھا کر یہ تو کہہ سکتا ہے کہ خدا نے مجھے اس اس رنگ میں نظارہ دکھایا ہے مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ پانچ الفاظ بتائے ہیں۔یہ وہی شخص کہے گا جس پر لفظاً الہام نازل ہوا ہووہ بے شک قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ مجھے خدا نے کہا ہے ’’تیرا‘‘۔مجھے خدا نے کہا ہے ’’بچہ‘‘۔مجھے خدا نے کہا ہے ’’بڑا‘‘۔مجھے خدا نے کہا ہے ’’آدمی‘‘۔مجھے خدا نے کہا ہے ’’ہوجائے گا‘‘ مگر ایسا شخص جس نے صرف نظارہ دیکھا ہے یہ تو قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ میں مفہوم بیان کررہا ہوں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے مگر الفاط کے متعلق قسم نہیں کھاسکتا۔چونکہ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنا مافی الضمیر لفظوں میں ہی بتاسکتا ہے خواہ بول کر خواہ لکھ کر۔اس لئے وہ وحی زیادہ شاندار سمجھی جاتی ہے جو الفاظ میں آجائے۔خوا ہ لکھے ہوئے الفاظ اس کے سامنے آجائیں۔خواہ اسے آواز