تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 68

کوئی اشتباہ نہیں ہوتا۔مگر چونکہ ہم دوسروں کو نہیں سنانا چاہتے اس لئے جس طرح انسان دوسرے کے کان میں بات کہہ دیتا ہے ہم بھی ایسے رنگ میںبات کرتے ہیں کہ صرف وہی شخص سنتا ہے جس کو ہم سنانا چاہتے ہیں دوسرا شخص ہماری بات کو نہیں سن سکتا۔ہاںایک فرق ضرور ہے اور وہ یہ کہ کسی کے کان میں بات کرنے والا تو طبعی قوانین سے مجبور ہوتا ہے اور وہ ڈرتاہے کہ اگر میں نے زیادہ زور سے بات کی تو دوسرے لوگ بھی سن لیں گے اس لئے وہ آہستگی سے بات کرتا ہے مگر ہم بلند آواز سے بات کرتے ہیں اور پھر بھی صرف وہی شخص ہماری بات سن سکتا ہے جس پر ہم وحی نازل کرنا چاہتے ہیں دوسرے لوگ ہماری آواز کو نہیں سن سکتے۔دوسری صورت یہ ہے کہ ہم رمز سے بات کرتے ہیں یعنی جب تک انسان حجاب نہ اٹھائے اس پر حقیقت منکشف نہیں ہوتی۔اس کے بعد اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ ایک وحی ایسی ہوتی ہے جو بالواسطہ آتی ہے ہم اپنے بندے سے بے شک کلام کرتے ہیں مگر براہ راست نہیں بلکہ ہم مَلک رسول سے بات کرتے ہیں اور مَلک رسول آگے بشر رسول سے کرتا ہے مگر بہرحال یہ بھی وحی ہی ہوتی ہے۔مَلک رسول کے ذریعہ کوئی بات پہنچانے سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ شق وحی کے دائرہ سے خارج ہے اسی لئے يُرْسِلَ رَسُوْلًا کے بعد فَيُوْحِيَ کا لفظ دوہرایا گیا ہے یہ بتانے کے لئے کہ یہ شق بھی وحی الٰہی میں ہی شامل ہے۔اس کے بعد بِاِذْنِهٖ کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ مَلک رسول اپنے پاس سے کوئی بات نہیں کہتا ہمارے اذن اور منشاء سے وہ بات پہنچاتا ہے گویا ہے تو وہ بھی کلام مگر اس کلام کے پہنچانے میں ایک واسطہ پیدا کردیا گیا ہے۔اس طرح آیت کا لفظ لفظ بالکل اپنے مقام پر کھڑا ہے۔مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا الگ چیزہے، اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ الگ چیز ہے اور يُرْسِلَ رَسُوْلًا الگ چیز ہے۔یہ تین قسمیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں اور تینوں میں اَوْ کالفظ رکھ کر بتایا ہے کہ ان تینوں میں مغائرت پائی جاتی ہے۔اِلَّا وَحْيًا سے مراد ہے وَحْیًا بِغَیْرِ الْوَاسِطَۃِ۔اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ سے مراد ہے فِی الْمَنَامِ یا بِالْاِشَارَۃِ۔اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا سے مراد یُوْحِیْ بِالْوَاسِطَۃِ یعنی اللہ تعالیٰ مَلک رسول کو وحی کرتا ہے اور وہ بشر رسول کو کرتا ہے۔چونکہ وحی کی یہ قسم بالواسطہ ہے اور شبہ پیدا ہوسکتا تھا کہ یہ دائرہ وحی سے خارج نہ ہو اس لئے ضروری تھا کہ اس کے ساتھ وضاحت کردی جاتی کہ یہ قسم بھی وحی الٰہی میں شامل ہے چنانچہ اسی لئے فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَاءُ کہہ کر وحی کالفظ اللہ تعالیٰ نے دُہرادیا اور بتادیا کہ یہ شق بھی وحی الٰہی میں شامل ہے۔وحی کی تین اقسام غرض اس آیت کے ماتحت وحی کی تین اقسام ہوگئیں۔