تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 563
ہوتا ہے وہ کبھی تو اصلی فعل کے مطابق ہو تا ہے اور کبھی اس کےمخالف ہوتا ہے۔پس اس موقع پر بعض منکرین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو فرماتے ہیں کہ یتیم کی خبر گیری کرو، یتیم کی خبر گیری کرو۔کیوں نہ یہ سمجھا جائے کہ یہ تعلیم آپ کے یتیم ہو نے کا ردّ عمل ہے یعنی یہ خدا تعالیٰ کا کلام نہیں آپ کی فطرت کی آواز ہے۔کیونکہ آپ یتیم تھے آپ پر جو ظلم کئے گئے آپ کے دل میں یہ خیال پید اہوا کہ یہ میرے یتیم ہو نے کے سبب سے ہے۔آپ کا دل نہایت حساس تھا اس نے دنیا سے ان مظالم کا بدلہ لینا چاہا، آپ کے اندر ایک جوش اٹھا آپ نے دیکھا کہ آپ جیسے اور بھی یتیم ہیں جو لوگوں کے ظلموں کا شکار ہو رہے ہیں۔ان پر سختیاں کی جاتی ہیں تکالیف دی جاتی ہیں اور مختلف قسم کے اور مظالم توڑے جاتے ہیں۔آپ نے کہا بہت اچھا اب میں ان ظلموں کا بدلہ لوں گا۔میں انہیں طعنے دوں گا، ان پر الزام لگاؤں گا، ان کی برائیاں بیان کروں گا اور یتیموں کی مدد کروں گا۔آپ کے اندر جوش پیدا ہو گیا۔آپ کی طبیعت صاف تھی اس کے اندر سے ایک آواز اٹھی یہ طبعی آواز تھی جو قدرتی طور پر آپ کے اندر سے اٹھی۔مگر آپ نے ناواقفیت کی وجہ سے (نعوذباللہ من ذالک)اسے الہام سمجھ لیا۔ہم کہتے ہیں یہ درست نہیں کہ قرآن کریم آپ کی فطرت کی آواز ہے اور اس کی تعلیم اس ردّ عمل پر مشتمل ہے جو اس زمانہ کے حالات کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےدل میں پیدا ہوا۔گو ہم عقیدۃً بھی مانتے ہیں کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے مگر علم ظاہر کے لحاظ سے بھی ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ قرآن کریم نفسیاتی ردّ عمل کا نتیجہ نہیں ہے۔یتامیٰ کے متعلق اسلامی تعلیم کسی ردّ عمل کا نتیجہ نہیں پس مسلمان متشکک کے لئے تو ہمارا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہیں خدا تعالیٰ کا کلام ہے اس لئے اس کے ’’ردّ عمل‘‘ ہو نے کا خیال بالبداہت باطل ہے۔کیا خدا تعالیٰ یتیم یا مسکین ہے کہ یتامیٰ اور مساکین پر جو ظلم ہو تے تھے ان کے جواب میں اس کے دل میں بھی ایک ردّ عمل ہوا اور اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس ردّ عمل کا اظہار فرمایا۔لیکن اسلام کے منکر کے اعتراض کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ قرآن کریم کے دعویٰ کو نظر انداز کر کے عقلاً بھی یہ اعتراض درست نہیں ہے کیونکہ واقعات سے ثابت ہے کہ یتامیٰ وغیرہ کےخلاف قرآن کریم کی تعلیم انتقامی نہیں اصلاحی ہے۔ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یُتم کے زمانہ کو دیکھتے ہیںتو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا یُتم ایسا نہیں تھا کہ اس کے خلاف آپ کے اندر کوئی ردّ عمل پیدا ہو تا۔اگر آپ کے اور رشتہ دار نہ ہوتے یا ایسے رشتہ دار ہو تے جو آپ پر ظلم کرتے، آپ پر سختی کرتے اور تکالیف دیتے۔تب تو یہ اصلاحی آواز نہیں انتقامی آواز ہو تی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ