تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 49
وحی الٰہی کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے دو مختلف مضامین کو مخلوط کردیا ہے۔وہ بتانا یہ چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کلام نازل ہوتا ہے اس کی کیا قسمیں ہیں۔مگر اس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس وحی کو بھی بیان کردیا ہے جو مکھی کی طرف ہوئی۔حالانکہ یہ بالکل واضح بات تھی کہ وہ یہ بحث نہیں کررہے تھے کہ لغت کے لحاظ سے وحی کے کیا معنے ہیں یا وحی کا اطلاق کن کن معانی پر ہوسکتا ہے۔بلکہ وہ بتانے یہ لگے تھے کہ بشر پر جو وحی الٰہی نازل ہوتی ہے اس کی کیا قسمیں ہیں۔مگر ان کا ذکر کرتے ہوئے اس وحی کا بھی انہوں نے ذکر کردیا جو مکھی کی طرف ہوئی۔چنانچہ انہوں نے بحث یہ اٹھائی تھی کہ وَیُقَالُ لِلْکَلِمَۃِ الْاِلٰھِیَّۃِ الَّتِیْ تُلْقٰی اِلٰی اَنْبِیَاءِہٖ وَ اَوْلِیَاءِہٖ وَحْیٌ کہ ان کلماتِ الٰہیہ کو بھی وحی کہا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کے اولیاء کی طرف نازل ہوتے ہیں وَذَالِکَ اَضْـرُبٌ اور اس کی کئی قسمیں ہیں۔حَسْبَ مَا دَلَّ عَلَیْہِ قَوْلُہٗ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اِلٰی قَوْلِہٖ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَآءُ جیسا کہ خدا تعالیٰ کا یہ قول اس پر دلالت کرتا ہے کہ کسی انسان سے اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرتا مگر اس رنگ میں کہ اس پر براہِ راست وحی نازل کرتا ہے یا اس سے وراء حجاب گفتگو کرتا ہے یا اس کی طرف کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ اس وحی کا ذکر رہاہے جو بشر پر نازل ہوتی ہے مگر اس کی تشریح کرتے ہوئے مفردات والے لکھتے ہیں وَاِمَّا بِتَسْخِیْـرٍ نَـحْوَ قَوْلِہٖ وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ یا وحیٔ تسخیر ہوتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی۔جب اس جگہ اس وحی کا ذکر ہورہا تھا جو بشر پر ہوتی ہے تو غیربشر کی وحی کا اس تشریح میں ذکر ہی کس طرح آسکتا تھا۔پس پہلی غلطی تو یہ ہے کہ آیت اور لغت کو انہوں نے مخلوط کردیا ہے۔بے شک لغت کے لحاظ سے یہ بات صحیح ہے کہ وحی کی ایک قسم وحیٔ تسخیر بھی ہے جیسا کہ شہد کی مکھی کی طرف وحی ہوئی مگر مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا میں بشر کا ذکر ہے غیر بشر کا نہیں۔مگر تشریح کرتے ہوئے وہ مکھی کا ذکر بھی لے آئے اور ان کے ذہن پر آیت قرآنی کی تشریح کی بجائے لغت غالب آگئی۔انہیں یہ خیال نہ رہا کہ یہاں اس وحی کا ذکر ہے جو بشر کی طرف ہوتی ہے۔اس وحی کا ذکر ہی نہیں جو غیر بشر کی طرف ہو۔اس لئے وحی تسخیر کا اس دوران میں کوئی ذکر ہی نہیں آسکتا تھا۔دوسری غلطی یہ ہے کہ وہ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ذَالِکَ اِمَّا بِرَسُوْلٍ مُّشَاھَدٍ تُرٰی ذَاتُہٗ یا تو یہ کلام کسی رسول کے ذریعہ آتا ہے جس کی شکل سامنے نظر آتی ہے وَیُسْمَعُ کَلَامُہٗ اور اس کی آواز بھی سنی جاتی ہے وَاِمَّا بِسَمَاعِ کَلَامٍ مِنْ غَیْـرِ مُعَائِنَۃٍ یا بغیر کسی چیز کے دکھائی دینے کے محض آواز آجاتی ہے۔کَسِمَاعِ مُوْسٰی کَلَامَ اللہِ جیسے موسٰی سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا۔وَ اِمَّا بِاِلْقَاءٍ فِی الرَّوْعِ یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات