تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 517

حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ کیسی بے وقوفی کی بات ہے کہ لوگ کہتے ہیں تعصب بری چیز ہے، تعصب تو بڑی اچھی چیز ہے۔اس وقت میری تعلیم چونکہ ابھی ابتدائی حالت میں تھی۔اس لئے جب بھی آپ یہ فقرہ استعمال فرماتے مجھے یوں محسوس ہو تا کہ میرا جسم کانپ اٹھا ہے اور میں اپنے دل میں کہتا تھا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ تعصب جیسی بری چیز کو آپ اچھا قرار دے رہے ہیں مگر پھر آہستہ آہستہ یہ مضمون مجھ پر واضح ہو نا شروع ہوا اور میں نے سمجھ لیا کہ یہ لفظ عربی ہے اور عربی میں اس کا اور مفہوم ہے اور اردو میں اور، عربی میں جہاںاس کے معنے برے ہیں وہاں اس کے معنے اچھے بھی ہیں۔لفظ کی بناوٹ کے لحاظ سے اس کے معنے یہ ہیں کہ اپنے دین اور طریقے کے لئے غیرت کا ظاہر کرنا اور اس پر اگر حملہ ہو تو اسے دور کرنا۔ظاہر ہے کہ یہ معنے اچھے ہیں۔جس چیز کو انسان اچھا سمجھتا ہے اس کے لئے اظہار غیرت اور اس کی حفاظت کے لئے قربانی ایک بہترین فعل ہے۔درحقیقت یہ لفظ اردو میں غلط استعمال ہو نے لگ گیا ہے۔اور صرف برے معنوں میں محصور ہو کر رہ گیا ہے اور اسی وجہ سے ابتداءً مجھے حضرت خلیفۂ اوّل کے مذکورہ بالا فقرہ پر تعجب ہوا کرتا تھا۔مگر آہستہ آہستہ جب میں نے زیادہ علم پڑھا تو پھر میری سمجھ میں یہ بات آنے لگ گئی کہ آپ کی بات ٹھیک ہے۔ہم تعصّب کے معنے اردو میں صرف یہ لیتے ہیں کہ ناجائز طور پر قوم کی طرف داری کرنا۔لیکن عربی میں اس کے دو مفہوم ہیں جن میں سے ایک کو اردو میں بالکل نظر انداز کر دیا جا تا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ اس آیت میں نیکی کی جڑوں کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ کون کون سی نیکیاں ہیں جن کے چھوڑنے سے بدیوں کا دروازہ کھل جاتا ہے اور کون کون سی نیکیاں ہیں جن کو اختیار کرنے سے مزید نیکیوں پر قدرت حاصل ہو جاتی ہے۔پس مِلَّۃٌ کےاقرار سے اس آیت میں ( میں پہلے بتا چکا ہوں کہ اس آیت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ دین کا انکار فطرت کے خلاف ہے۔ایسا شخص وہی ہو سکتا ہے جو فطرت کو بھول جائے۔پس اس آیت میں دین کی ضرورت پر زور ہے ) اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان کی فطرت صحیحہ اسے قومی خدمت کی طرف راغب کرتی ہے اور جو شخص قومی خدمت کی ضرورت کو محسوس کرے گا وہ لازماً انفرادی ضرورتوں کو مقدم کرنے والے شخص سے بہت زیادہ نیک کام کرے گا۔بے شک انفرادی حقوق بھی ہوتے ہیں لیکن ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے جب ان پر زور دینا گناہ کا موجب ہوتا ہے۔مثلاً بدلہ لینا ہے۔عیسائیت کہتی ہے بدلہ نہ لے۔مگر مسیحی جب یہ تعلیم پیش کرتے ہیں تو وہ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں کیونکہ مسیحیوں سے زیادہ بدلہ آج تک دنیا میں کسی قوم نے نہیں لیا۔مگر اسلام کہتا ہے کہ موقع ہو تو بدلہ لے، نہ ہو تو نہ لے۔اگر تمہیں اس با ت میں دنیا یا ظالم کا فائدہ نظر آتا ہے کہ بدلہ لو تو بدلہ لو ورنہ