تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 513

نہیں مانتا اسے ہم پہلے خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل کریں گے۔لیکن جب وہ قائل ہو جائے گا تو اسے ماننا پڑے گا کہ اگر کامل اور بےعیب وجود خدا تعالیٰ کا ہے تو نیکی سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ہم اس بے عیب اور کامل ذات کا عکس اپنے اندر پیدا کر لیں اور اس کی تصویر بن جائیں۔جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کی صفات کا عکس اپنے اندر لے لے گا تو وہ تمام دنیا سے حسن سلوک کرنے لگ جائے گا اور اس کا رحم دوست اور دشمن سب پر وسیع ہو گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک سب اس کے بندے ہیں۔ابو جہل بھی اس کا بندہ ہے اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کے بندے ہیں۔یوناہ نبی کے واقعہ کو ہی دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے حضرت یونسؑ کو الہاماً بتایا کہ نینوہ کی بستی چالیس دنوں کے اندر اندر تباہ کردی جائے گی وہ اس بستی کو چھوڑ کر جنگل میںجا بیٹھے اور عذاب کا انتظار کرنے لگے۔چالیس دن کے بعد کوئی نینوہ سے آنے والا ملا تو اس سے انہوں نے پوچھا کہ نینوہ کا کیا حال ہے اس نے بتایا کہ سب لوگ خوش و خرم ہیں اور بالکل خیریت کے ساتھ ہیں۔اس پر حضرت یونسؑ کو خیال گذرا کہ اگر میں نینوہ میں واپس گیا تو لوگوں کے سامنے مجھے شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔چنانچہ وہ جہاز میں بیٹھ کر کسی غیر ملک کی طرف چل پڑے۔راستہ میں طوفان آیا اس پر انہوں نے جہاز والوں سے اصرار سے کہاکہ یہ عذاب میری وجہ سے آرہا ہے جو اپنے آقا (خدا) کا بھاگا ہوا غلام ہوں اس لئے مجھے سمندر میں پھینک دو۔چنانچہ بہت سے انکار کے بعد انہوں نے ان کو سمندر میں پھینک دیا اور سمندر کی ایک بڑی مچھلی ان کو نگل گئی اور آخر اس نے قے کر کے انہیں کنارہ پر پھینک دیا وہ ابھی زندہ تھے مگر مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے سخت کمزور ہو چکے تھے وہاں ایک کدو کی بیل اُگی ہوئی تھی انہوںنے اس کے سایہ میں سر چھپایا اور آرام کیا۔رات کو خدا تعالیٰ نے ایک کیڑے کے دل میں القاء کیا اور اس نے راتوں رات وہ بیل کاٹ کر رکھ دی۔صبح جب انہوں نے بیل کو کٹا دیکھا تو جیسے انسان کی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ ناراضگی کے وقت بے جان چیزوںاور جانوروں کو بھی برا بھلاکہہ دیتا ہے انہوں نے بھی غصہ میں کہا کہ خدا اس کیڑے پر لعنت کرے جس نے ایسی آرام دہ بیل کو کاٹ دیا ہے۔اس پر حضرت یونسؑ کو الہام ہوا کہ اے یونس ! کیا یہ بیل تیری اگائی ہوئی تھی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بیل تیری اگائی ہوئی نہیں تھی صرف تجھے اس سے فائدہ پہنچ رہا تھا مگر جب یہ بیل کٹ گئی تو تجھے کتنا غصہ آیا کہ تو نے کیڑے پر بھی لعنت کر نی شروع کر دی۔اے یونس اگر تجھے اس بیل کا اتنا غم ہے تو کیا نینوہ کے رہنے والے ہمارے بندے نہیں تھے وہ خواہ کتنے ہی گندے ہوں۔بہر حال ہمارے بندے تھے جب انہوں نے توبہ کرلی تو تُو کس طرح یہ امید کر تا تھا کہ ہم ان کو ہلاک کر دیں گے۔یہ ہے ہمارا خدا جو نہ طرفداری کرتا ہے نہ جتھوں کا ساتھ دیتا ہے نہ طاقت ورکی تائید کرتا ہے۔وہ رحم اور صرف رحم چا ہتا ہے۔چنانچہ جب بھی کوئی شخص