تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 510

ایک فلسفہ ہے۔وہ اپنے آپ کو کسی الٰہی کتاب کی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ الٰہی کتاب کا جھوٹا ترجمہ کرتے ہیں۔مثلاً وید میں لکھا ہےنیکی کر تو وہ اس کا ترجمہ یہ کریں گے کہ بدکاری کر۔مگر بہر حال یہ ایک فلسفہ ہے مذہب نہیں۔مذہب کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ کوئی شخص دعویٰ کرے کہ خدا نے مجھے یوں کہا ہے اور ایسی کوئی الہامی کتاب نہیں جس میں یہ تعلیم ہو کہ بدی کر۔کوئی مذہب ایسی تعلیم دے ہی نہیں سکتا۔اس لئے کہ اگر وہ ایسی تعلیم دے گا تو دنیا میں مقبول نہیں ہوسکے گا۔مذہب ہمیشہ زمانہ کی رَو کا مقابلہ کر کے آگے بڑھتا ہے اور جب مذہب کا کام ہی یہ ہے کہ وہ عام رَو کے خلاف تعلیم دے تو وہ خلاف فطرت تعلیم دے کر پھیل ہی کس طرح سکتا ہے؟ رسم و رواج تو اس کے پہلے سے ہی مخالف ہوتے ہیں اگر فطرت بھی اس کےخلاف ہو تو وہ چلے گا کس طرح۔سچے مذہب کی مخالفت رسم و رواج و عادات بے شک کرتے ہیں اور سخت کرتے ہیں مگر چونکہ وہ فطرت اور عقل کے عین مطابق ہوتا ہے باوجود دنیا کی مخالفت کے وہ آخر جیت ہی جاتا ہے۔کیونکہ فطرت و عقل اس کی تائید میں ہر انسان کے دل میں بغاوت کرنے لگ جاتے ہیں۔مجھے ایک دفعہ بر ما سے ایک شخص نے بہائیت کے متعلق ایک کتاب بھیجی اور لکھا کہ آپ دیکھیں بہائیت کی تعلیم کیسی اعلیٰ ہے کہ سچ بولو، عورتوں کو تعلیم دو،ظلم نہ کرو، بدی سے بچوکیا ایسی تعلیم بھی جھوٹی ہو سکتی ہے؟میں نے اسے جواب میں لکھاکے یہ بڑی اچھی باتیں ہیں مگر اس سے جو نتیجہ آپ نے نکالا ہےمیں اس سے متفق نہیں۔اس لئے کہ آپ کہتے ہیں یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے۔بہائیت کہتی ہے جھوٹ نہ بولو، بہائیت کہتی ہے عورتوں کے حقوق ادا کرو، بہائیت کہتی ہے فریب نہ کرو، بہائیت کہتی ہے امانت اور دیانت سے کام لو۔میں نے لکھا کہ دنیا میں بڑے بڑے مذاہب یہودیت، اسلام، ہندومذہب اور زرتشتی ازم ہیں ان تمام مذاہب کی کتب میں سے آپ وہ حوالجات نکال کر مجھے بھجوا دیں جن میں یہ لکھا ہو کہ جھوٹ بولو، سچ نہ بولو، دیانت داری کو ترک کر دو، انصاف نہ کیا کرو، عورتوں کے حقوق نہ اداکیا کرو۔اگر کسی مذہب کی کتاب میں یہ بات لکھی ہوئی ہو تو میں مان لوں گا کہ بہائیت نےنہایت اعلیٰ تعلیم پیش کی ہے اور اگر سب مذاہب میں یہی تعلیم ہے تو اس میں بہائیت کو امتیاز کون سا حاصل ہوا۔یہ تو ایک طبعی تعلیم ہے جو ہر مذہب کو پیش کرنی پڑتی ہے ورنہ فطرت کے خلاف کھلی تعلیم دے کر وہ کہاں کامیاب ہو سکتا ہے۔غرض کسی مذہب کو لے لو وہ سچا ہو یا جھوٹا ضرور اخلاقی پابندی کراتا ہے یہی وجہ ہے قرآن کریم نے اہل کتاب کی لڑکیاں لے لینا تو جائز قرار دیا ہے لیکن غیر اہل کتاب کی لڑکیوں سے شادی جائز قرار نہیں دی۔اسی طرح اہل کتاب کے ذبیحہ کو تو جائز قرار دیا ہے لیکن غیر اہل کتاب کے ذبیحہ کو جائز قرار نہیں دیا۔اس میں حکمت یہی ہے کہ اگر ایک عیسائی عورت آئے تو