تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 472

اس پر ایمان رکھنے والا بہت تھوڑا حصہ نکلے گا جو ہزاروں یا زیادہ سے زیادہ لاکھوں کی تعداد میں ہو گا۔پس ہم کہہ سکتےہیں کہ ان ساروں کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے اگر ان کے لئے نازل نہیں ہوئی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو مجرم کس طرح قرار دے گا پھر تو وہ بڑی آسانی سے کہہ دیں گے کہ یہ آیت ہمارے متعلق نہیں بلکہ فلاں شخص کے متعلق تھی۔یہ لوگ موردِ الزام اسی صورت میں سمجھے جا سکتے ہیں جب یہ تسلیم کیا جائے کہ یہ آیت کسی خاص شخص سے مخصوص نہیں بلکہ ہر شخص جو تکذیبِ دین کرتا ہے وہ اس کا مخاطب ہے۔جن مفسرین نے اس آیت کو ابوجہل پر چسپاں کیا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ ایک یتیم کا مال ابوجہل کے سپرد تھا ایک دن وہ ننگا دھڑنگا اس کے پاس آیا۔کپڑے اس کے پاس نہیں تھے اور اس نے آکر تقاضا کیا کہ میری امانت میں سے کچھ روپیہ مجھے دے دیا جائے مگر ابوجہل نے اسے دھتکارا اور وہ مایوس ہو کر واپس چلا گیا۔قریش کے رؤوسا نے اسے شرارتاً مشورہ دیا کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ان سے سفارش کراؤ وہ غریبوں کی خدمت کابڑا دعویٰ کیا کرتے ہیں۔ان کی غرض یہ تھی کہ آپ سفارش کریں گے تو ابوجہل آپ کو ڈانٹے گا اور آپ ذلیل ہوں گے اور سارے شہر میں آپ پر ہنسی اڑے گی۔اور اگر سفارش نہیں کریں گے تب بھی آپ کی سُبکی ہو گی۔ہم ہر جگہ لوگوں کو بتائیں گے کہ دیکھو غریبوں کی مدد کرنے کے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں مگر حالت یہ ہے کہ ایک یتیم سفارش کے لئے آیا اور ان سے اتنا نہ ہو سکا کہ اس کی سفارش ہی کر دیں۔بہرحال قریش کے مشورہ پر وہ آپ کے پاس گیا۔جب وہ یتیم آپ کے پاس پہنچا تو چونکہ آپ نے حلف الفضول میں عہد کیا ہوا تھا کہ آپ غرباء کی مدد کیا کریں گے اس لئے آپ فوراً اس کے ساتھ چلنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔آپ نے یہ بھی نہ سوچا کہ کس دشمن کے پاس جارہے ہیں اسے ساتھ لیا ابوجہل کے دروازہ پر پہنچے اور دستک دی ابوجہل باہر آیا تو آپ نے فرمایا یہ یتیم آیا ہے اس کی کچھ امانت آپ کے پاس ہے چونکہ اسے روپیہ کی ضرورت ہے اس لئے آپ وہ روپیہ اسے دے دیں۔ابوجہل چپ کر کے اندر گیا اور اس نے روپیہ لا کر اس یتیم کو دے دیا۔جب قریش کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ابوجہل کو طعنے دیئے اور کہا کہ تو تُو صبائی ہو گیا ہے قریش مکہ میں مسلمانوں کو صبائی یا صابی کہا کرتے تھے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ صابی ایک فرقہ تھا جو عراق میں رہتا تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب ہوتا تھا۔یہ لوگ چونکہ حضرت ابراہیمؑ کا بہت ذکر کیا کرتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے دین کو دینِ حنیفی کہتے تھے۔مکہ کے لوگوں نے اس مشابہت کی وجہ سے آپ پر ایمان لانے والوں کو بھی صابی یا صبائی کہنا شروع کر دیا۔غرض جب ابوجہل نے اس یتیم کو مال واپس کیا تو قریش نے اسے طعنے دیئے اور کہا کہ تو تُو صبائی ہو گیا ہے۔اس نے کہا خدا کی قسم میں