تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 467
ابراہیم سے کوئی سودا نہیں کیا۔بلکہ ابراہیم نے خود کہا کہ اے میرے رب میں تجھ سے یہ سودا کرتا ہوں اور یہ سودا پیش کرنے والا تمہارا اپنا دادا تھا۔اس کی بات کی پچ تو تمہیں زیادہ ہونی چاہیے۔ہم پر ابراہیم نے جو ذمہ واری رکھی تھی وہ ہم نے پوری کر دی۔الَّذِيْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۔اس نے جہاں کہا تھا ہم نے رزق پہنچایا اس نے کہا تھا کہ میری اولاد کو وادیٔ غیر ذی زرع میں رزق دیا جائے۔سو ہم نے وادیٔ غیر ذی زرع میں ہی تمہیں رزق دے دیا۔اس نے کہا تھا کہ انہیں اس خطرناک مقام پر امن دیا جائے۔سو ہم نے اس خطرناک مقام پر تمہیں امن دے دیا۔اس نے کہا تھا کہ یہ رزق اور امن انہیں تلوار کے زور سے نہ ملے بلکہ لوگوں کی محبت اور پیار کے نتیجہ میں ملے سو ہم نے لوگوں کے دلوں میں تمہاری محبت قائم کر دی اور اب اسی محبت کے نتیجہ میں تمہیں رزق اور امن حاصل ہو رہا ہے۔اب کیا تمہارا فرض نہیں کہ تمہارے دادا نے تمہاری طرف سے جو وعدہ کیا تھا کہ یہ اس گھر میں ہمیشہ کے لئے بس جائیں گے اور اس میں خالص تیری عبادت کو قائم کریں گے، تم اسے پورا کرو۔ہم نے کتنے عرصہ تک اپنے وعدہ کو پورا کیا۔اس کے مقابلہ میں تمہاری طرف سے بھی یہ وعدہ تھا کہ ہم مکہ میں رہیں گے اور خدائے واحد کی پرستش بجا لائیں گے تم ہزاروں سال سے شرک کرتے چلے آرہے ہو مگر ہم نے تمہیں کچھ نہیں کہا۔کیونکہ تم کہہ سکتے تھے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تعلیم نہیں پہنچی۔لیکن اب تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرف بھیج دیئے گئے ہیں اور وہ تمہیں خدائے واحد کی طرف بلا رہے ہیں۔مگر اے ظالمو! تم اب بھی خدائے واحدکی طرف نہیں آرہے۔