تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 466
اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اپنی اولاد کے لئے دو باتیں مانگی ہیں۔امن۔۱ اور رزق۔۲ اور پھر ذریعہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ امن اور رزق انہیں کس طرح ملے؟ آپ فرماتے ہیں یہ دونوں چیزیں انہیں حکومت اور تلوار کے زور سے نہ ملیں۔بے شک دنیا میں حکومت کے زور سے امن بھی قائم ہو جاتا ہے اور حکومت لوگوں کا روپیہ بھی کھینچ کھینچ کر لے آتی ہے مگر آپ فرماتے ہیں میں یہ پسند نہیں کرتا کہ انہیں اس رنگ میں یہ چیزیں ملیں۔میری دعا اور التجا یہ ہے کہ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْۤ اِلَيْهِمْ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا ہو اور وہ عقیدت کے ساتھ ان کی طرف جھکیں۔گویا جو کچھ ملے زور اور طاقت سے نہ ملے بلکہ عقیدت اور محبت کی وجہ سے ملے۔یہ کتنی کڑی شرطیں ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا میں لگا دی ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص جنگل میں جا کر یہ دعا کرے کہ خدایا مجھ پر بارش برسا وہ میرے اردگرد نہ برسے۔وہ صرف آدھ گھنٹہ برسے اور جب برس چکے تو فوراً اسی جگہ سے ایک درخت نکل آئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی اولاد کو ایک جنگل میں لا کر بٹھا دیتے ہیں اورپھر دعا یہ کرتے ہیں کہ انہیں امن حاصل ہو۔بھلا جنگل میں امن کہاں! جنگل میں تو یہی ہو سکتاہے کہ کوئی بھیڑیا آئے اور چیر پھاڑ جائے یا کوئی ڈاکو آئے اور وہ لوٹ لے۔پھر وادیٔ غیر ذی زرع کہاں اور رزق کہاں! مگر وہ ایک جنگل میں اپنی اولاد کو بٹھا کر یہ دعا کرتے ہیں کہ خدایا انہیں رزق عطا فرما۔گویا اللہ تعالیٰ سے وہ اپنی اولاد کے لئے دو چیزیں مانگتے ہیں۔رزق بھی مانگتے ہیں اور امن بھی مانگتے ہیں اور مانگتے بھی وادیٔ غیر ذی زرع میں ہیں۔مگر پھر یہیں پر بس نہیں کرتے بلکہ ایک اور شرط یہ عائد کرتے ہیں کہ انہیں رزق اور امن تو ملے مگر تلوار سے نہیں۔حکومت اور طاقت کے زور سے نہیں بلکہ اس طرح کہ ان کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو اور وہ خود بخود عقیدت مندانہ جذبات کے ساتھ ان کی طرف جھکتے چلے جائیں یہ کتنی سخت اور کڑی شرائط ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا کے ساتھ لگائی ہیں۔اس کے مقابلہ میں وہ دو۲ باتیں اپنی اولاد کی طرف سے بھی کہتے ہیں۔ایک یہ کہ وہ مکہ میں رہیں گے اور دوسری یہ کہ خدا تعالیٰ کی عبادت میں لگے رہیں گے اور وہ عبادت توحید والی ہو گی۔اللہ تعالیٰ اسی دعائے ابراہیمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے الَّذِيْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۔اے مکہ والو! ہم نے وہ وعدہ پورا کر دیا جو ہم نے ابراہیم کےساتھ کیا تھا۔اب کیا تمہارا فرض نہیں کہ تم بھی اس عہد کو پورا کرو جو تمہاری طرف سے تمہارے دادا ابراہیمؑ نے کیا تھا۔یہ دو باتیں کہ وہ مکہ میں رہیں گے اور عبادتِ خدا میں لگے رہیں گے اور عبادت بھی توحید والی کریں گے ہم نے نہیں کہی تھیں۔ہم نے ابراہیمؑ سے یہ نہیں کہا تھا کہ اے ابراہیم چونکہ تو ہم سے دو چیزیں مانگ رہا ہے ہم بھی تجھ سے دو چیزیں مانگتے ہیں۔ہم نے