تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 441
سے بھی بڑھے ہوئے تھے، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے والوں سے بھی بڑھے ہوئے تھے تو ہم سوائےاس کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ۔اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِ ایک نشان تھا جو خدا نے د کھایا۔ایک آسمانی تدبیر تھی جس کو خدا تعالیٰ نے ظاہر کیا۔مکہ والوں کی یہ ہمت نہیں تھی کہ وہ ایسا کر سکتے۔یہ خدا کا نشان تھا اور اسی خدا کی قدرت کا یہ کرشمہ تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں مبعوث کرنا چاہتا تھا اور یہی بات خدا تعالیٰ اس جگہ کہہ رہا ہے کہ مکہ والوں نے باوجود اس کے کہ وہ بے دین تھے، باوجود اس کے کہ وہ مشرک تھے، باوجود اس کے کہ وہ روحانیت سے عاری تھے، وہ فعل کیا جو آج تک دنیا کی کوئی قوم نہیں کر سکی۔پس وہ فعل مکہ والوں نے نہیں کیا وہ فعل ہم نے ان سے کروایا۔وہ صرف ہمارے تصرّف اور اثر کا نتیجہ تھا۔انہوں نے جو کچھ کیا ہم اس کی وجہ قومی کیریکٹر قرار نہیں دے سکتے کیونکہ قومی کیریکٹر کے ہوتے ہوئے بھی بھوک پیاس کی تکلیف پر لوگ ادھر ادھر بھاگ جایا کرتے ہیں۔اسے ہم صرف خدا تعالیٰ کا تصرّف اور خدا تعالیٰ کی تدبیر ہی کہہ سکتے ہیں۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ چونکہ مکہ والوں کا کام ان کا اپنا کام نہ تھا خدا تعالیٰ کا کام تھا۔اس لئے ہم اس کی نقل اتارنے کی کوشش نہ کریں۔جس حد تک اس قربانی کی مثال ہم پیش کر سکیں ہمیں پیش کرنی چاہیے جب تک ہم ایسا نہ کریں ہم دنیا میں کوئی بڑا انقلاب پیدا نہیں کر سکیں گے۔صحابہؓ نے بے شک دنیا میں انقلاب پیدا کیا لیکن وہ انقلاب ایسی ہی قربانی کی مثال قائم کرنے کی کوشش سے پیدا کیا۔اگر وہ بالکل اس معیار پر پورے اترتے تو جو مکہ والوں میں معجزہ کے طور پر اور ظہور محمدؐی کے پیش خیمہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے دکھایا تھا۔تو یقیناً صحابہؓ اپنی ترقی کے معیار کو اور بھی اونچا لے جاتے۔وہ اسلام کی بنیادوں کو اور بھی مضبوط کر دیتے۔وہ کفر کی تباہی کو اور بھی مکمل کر دیتے ہماری جماعت کے افراد کو بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ اس وقت کیا نمونہ پیش کر رہے ہیں۔جب وہ غیروں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں دیکھو ہماری جماعت کتنی قربانی کر رہی ہے۔کس طرح نوجوان اپنی زندگیاں وقف کر رہے ہیں کیونکہ وہاں غیر کی طرف سے انہیں عزت مل رہی ہوتی ہے۔مگر جب اندر بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں ان مولویوں کا کیا ہے یہ تو پیسے لے کر کام کرتے ہیں۔حالانکہ جو کچھ مکہ والوں نے کیا اگر ساری جماعت قربانی کے اس نقطہ تک پہنچ جائے تو دنیا میں حیرت انگیز طو رپر ہماری تبلیغ کا سلسلہ وسیع ہو جائے۔میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کی ماہوار آمد پچیس تیس لاکھ سے کم نہیں۔اگر دین کو دنیا پر مقدّم کیا جائے جس کے معنے کم از کم ۵۱ فی صدی کے ہیں تو تیرہ لاکھ ماہوار آمد بن جاتی ہے۔میں نے جماعت کی آمد کا جو یہ اندازہ لگایا ہے یہ غلط نہیں۔حفاظتِ قادیان کے لئے جو تحریک کی گئی تھی اس میں ماہوار آمدن کے ساڑھے تیرہ لاکھ کے وعدے تھے اور ابھی جماعت کا بہت سا حصہ باقی تھا جس نے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا تھا۔