تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 426
مکہ میں آئے گا اور مکہ کے رہنے والوں سے سب سے پہلے کلام کرے گا اگر مکہ آباد نہ ہوتا تو وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا کی دعا کس طرح پوری ہوتی اور وہ کون سے لوگ تھے جن میں یہ رسول مبعوث ہوتا۔اسی طرح ابراہیمؑ نے کہا تھا کہ وہ انہیں کتاب اور حکمت سکھائے۔اگر مکہ آباد نہ ہوتا تو وہ کون لوگ تھے جن کو کتاب اور حکمت سکھائی جاتی۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا کہ وہ رسول ان کو پاک کرے۔ا گر وہاں کوئی آدمی ہی نہ ہوتا تو اس رسول نے پاک کن کو کرنا تھا وہ تو خس کم جہاں پاک کا پہلے ہی مصداق بن چکے تھے۔اگر مکہ آباد نہ ہوتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو یہ چار دعائیں کی تھیں ان میں سے ایک بھی پوری نہ ہو سکتی۔پس یہ اتفاق نہیں تھا بلکہ جو کچھ ہوا الٰہی سکیم اور اس کے منشاء کے مطابق ہوا۔دشمن کہہ سکتا ہے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعوذ باللہ جھوٹا دعویٰ کر دیا مگر اس امر کو کون اتفاق کہہ سکتا ہے کہ دو ہزار سال تک ایک قوم ادھر ادھر بھٹکتی پھرتی ہے۔وہ ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کی تمام پیشگوئیوں کو فراموش کر دیتی ہے مگر جب زمانۂ محمدؐی قریب آتا ہے تو یک دم اس قوم میں ایک حرکت پیدا ہوتی ہے۔وہ کہتی ہے ہم سے یہ کیا بے وقوفی ہوئی کہ ہم ادھر ادھر پھرتے رہے ہمارے دادا نے تو ہم سے کہا تھا کہ مکہ میں رہو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ہمارے دادا نے تو کہا تھا کہ تمہاری تمام ترقی مکہ میں رہنے سے وابستہ ہے۔مگر ہم کہیں کے کہیں پھرتے رہے۔اور وہ پھر مکہ میں آکر بس جاتی ہے۔اس لئے نہیں کہ مکہ میں کوئی کارخانہ کھل گیا تھا، اس لئے نہیں کہ وہاں تجارتیں اچھی ہوتی تھیں، اس لئے نہیں کہ وہاں زراعت اچھی تھی بلکہ صرف اس لئے کہ ابراہیمؑ نے انہیں ایک بات کہی تھی اور وہ اس پر عمل کرنے کے لئے وہاں اکٹھے ہو گئے۔پس یہ اتفاق نہیں بلکہ جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ کے منشا اور اس کے ازلی فیصلہ کے مطابق ہوا۔پھر میرے نزدیک بالکل ممکن ہےکہ اس اجتماع میں یہودی اور نصرانی روایات کا بھی دخل ہو کیونکہ قوم کو دوبارہ بسانے والے قصی تھے جن کے تعلقات نصاریٰ اور یہود سے تھے۔تعجب نہیں کہ جب یہودیوں اور عیسائیوں میں یہ چرچے شروع ہوئے ہوں کہ نبیٔ مختون کی آمد کا وقت قریب ہے اور یہود و نصاریٰ کے علماء سے انہوں نے یہ سنا ہو کہ موعود نبی عرب میں ظاہر ہونے والا ہے تو اپنی قومی روایات کو ملا کر انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہو کہ اگر یہ موعود نبی عرب میں آیا تو پھر مکہ میں ہی آئے گا اور اس طرح ان کےد ل میں یہ احساس پیدا ہوا ہو کہ جب ہمارے لئے خدا تعالیٰ یہ نعمت ظاہر کرنے والا ہے تو کیوں نہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی قوم کو وہاں لے جا کر بٹھا دیں۔تاکہ جب نبیٔ عرب کے ظہور کا وقت آئے تو ہماری قوم اس پر ایمان لا کر اللہ تعالیٰ کی برکات حاصل کرے۔جیسا کہ مدینہ والوں نے کیا کہ انہوں نے یہودیوں سے آنے والے نبی کے متعلق باتیں سنیں اور انہی باتوں کے نتیجہ میں وہ