تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 425

تھا اور دو ہزار سال کے بعد تو ایسی جاہل اور اَن پڑھ قوم میں سے ان کا ذکر بالکل مٹ جانا چاہیے تھا مگر ہو ایہ کہ عین دو ہزار سال کے بعد پھر ان میں ایک تحریک پیدا ہوئی اور وہ اپنے دادا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مکہ میں آبسے۔وہ بھوکے بھی رہے، وہ ننگے بھی رہے، وہ تکلیفیں بھی برداشت کرتے رہے مگر انہوں نے مکہ کو نہ چھوڑا۔اب سوال یہ ہے کہ وہ کیا اتفاق تھا جس نے دو ہزار سال کے بعد قوم میں خانۂ کعبہ کے گرد بسنے کا پھر احساس پیدا کر دیا۔علم النفس کے ماتحت اگر ہم غور کریں تو دوہزار سال کے بعد یہ ذکر قوم میں سے بالکل مٹ جانا چاہیے تھا مگر ہوا یہ کہ دو ہزار سال کے بعد یک دم ان میں ایک شخص پیدا ہوا اور اس نے کہا کہ ہم کو پھر مکہ میں جمع ہو جانا چاہیے اور اولادِ اسمٰعیل میں سےایک قبیلہ باوجود ہر قسم کے مخالفانہ حالات کے مکہ میں بیٹھ جاتا ہے اور خانہ کعبہ کی خدمت اور مکہ کی حفاظت کا کام اپنے ذمہ لے لیتا ہے اور پھر یہ لوگ اس کام کو اتنی محبت اور اتنے پیار سے سر انجام دیتے ہیں کہ وہ بھوکے مرتے ہیں۔ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچے تڑپ تڑپ کر جان دیتے ہیں۔ان کی بیویاں اور ان کی بیٹیاں مرتی ہیں مگر وہ مکہ کو چھوڑنے کا نام نہیں لیتے۔اتنا شدید احساس دو ہزار سال گذرنے کے بعد ان لوگوں میں کیوں پیدا ہوااور پھر اسی قبیلہ کے دل میں یہ خیال کیوں پیدا ہوا جس میںسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا ہونا تھا ایک معمولی غور سے بھی یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ یہ قدرت کی ایک انگلی تھی جس نے قوم کو اشارہ کیا کہ جس بات کے لئے تمہارے باپ دادا نے اس مکہ کو آباد کیا تھا اس کا وقت اب بالکل قریب آرہا ہے جاؤ اور مکہ میں رہو۔ورنہ یہ اتفاق کس طرح ہو سکتا ہے کہ دو ہزار سال ادھر ادھر پھرنے کے بعد ایک بڑی قوم کا صرف وہی ٹکڑا مکہ میں جمع ہوتاجس میں سے آنے والے موعود نے پیدا ہونا تھا۔دشمن کہہ سکتاہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعوذ باللہ جھوٹا دعویٰ کر دیا۔مگر سوال یہ ہے کہ آخر یہ کیا بات ہے کہ اس جھوٹے کی آمد سے پہلے تمام قوم چاروں طرف سے اکٹھی ہو کر مکہ میں آجاتی ہے اور اس لئے آتی ہے کہ ہمارے دادا ابراہیم ؑ نے کہا تھا کہ تم اس مقام پر رہو اور اسے آباد رکھو کہ یہ عالمگیر مذہب کا مرکز بننے والا ہے یہ عظیم الشان تغیّر جو یک دم بنو اسمٰعیل میں پیدا ہو ااور جس نے ان میں تہلکہ ڈال دیا بتاتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وعدہ کےمطابق ہوا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا گیا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی کہ رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ( البقرۃ:۱۳۰)۔اےمیرے رب ان مکہ والوں میں ایک رسول مبعوث فرما جو انہی میں سے ہو وہ انہیں تیری آیات پڑھ پڑھ کر سنائے، تیری کتاب کا علم ان کو دے حکمت کی باتیں ان کو سکھائے اور ان کے نفوس کا تزکیہ کرے اس دعائے ابراہیمی سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ رسول