تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 380

جنگ بڑے بڑے شہروں یا بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں لڑی جائے گی۔لیکن میں آپ لوگوں کو بتاتا ہوں کہ میں اس وقت ایک ایسے گاؤں میں سے ہوکر آیا ہوں جس میں ریل بھی نہیں جاتی (اس وقت تک قادیان میں ریل نہیں آئی تھی) جس میں تار بھی نہیں(اس وقت تک قادیان میں تار بھی نہیںتھی) اور جو نہایت ہی ادنیٰ حیثیت میں ہے۔زیادہ سے زیادہ اسے ایک معمولی قصبہ کہا جا سکتا ہے۔مگر میں وہاں عیسائیت کے مقابلہ کی ایسی تیاری دیکھ کر آیا ہوں کہ میں سمجھتا ہوں اسلام اور عیسائیت کی آئندہ جنگ جس میں یہ فیصلہ ہو گا کہ اب اسلام زندہ رہے یا عیسائیت۔وہ کہیں اور نہیں لڑی جائے گی بلکہ قادیان کے قصبہ میں لڑی جائے گی۔یہ فورمن کرسچن کالج کے پرنسپل کی رائے ایک سیلون کے اخبار میں چھپی تھی۔مگر بدقسمتی سے وہی مسلمان جن کو ذلّت کے مقام سے نکالنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس آسمانی سلسلہ کو قائم کیا تھا وہی اس عظیم الشان تحریک سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اس کے راستہ میں قسم قسم کی روکیں پیدا کرتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ان کی آنکھیں کھولے اور انہیں سچا ایمان اور تقویٰ نصیب کرے۔اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِيْ تَضْلِيْلٍۙ۰۰۳ کیا (ان کو حملہ سے قبل ہلاک کر کے) ان کے منصوبہ کو باطل نہیں کر دیا۔حلّ لُغات۔ضَلَّـلَ۔ضَلَّلَ کے معنے ہوتے ہیں سَیَّـرَہٗ اِلَی الضَّلَالِ (اقرب) اس کو ضلال کی طرف لے گیا یعنی دین یا حق یا رستہ سے اس کو دور کر دیا۔یہاں مراد یہ ہے کہ کامیابی کے مقررہ راستہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے دور کر دیا۔کیونکہ کَیْد کے مقابلہ میں یہی معنے اس جگہ چسپاں ہوتے ہیں پس اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِيْ تَضْلِيْلٍ کے یہ معنے ہوں گے کہ کیا اس کی تدبیر کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی کے راستہ سے دور نہیں کر دیا۔تفسیر۔حل لغات میں جو معانی بتائے گئے ہیں ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو تفسیر میں اوپر کر چکا ہوں وہی درست اور صحیح ہے۔میں نے بتایا تھا کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مستقل طور پر عیسائیوں کے منصوبوں کو ایک لمبے عرصہ تک باطل کر دیا۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اَلَمْ يُضِلُّ كَيْدَهُمْ کیا خدا نے ان کی کید کو ہٹا نہیں دیا۔بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِيْ تَضْلِيْلٍ۔تضلیل مصدر ہے اور مصدر عربی زبان میں ہمیشہ مستقل اور لمبے زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔مثلاً ہم کہتے ہیں قَامَ زَیْدٌ تو اس کے معنے ہوں گے زید کھڑا ہوا لیکن اگر ہم کہیں گے زَیْدٌ قَائِمٌ تو اس کے معنے یہ ہوں