تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 379

دین کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔پس اس زمانہ میں دین کی تقویت صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وابستہ ہے اور اس زمانہ میں روحانی سنگِ اسود آپ ہی ہیں گو جسمانی سنگِ اسود وہی ہے جو خانۂ کعبہ میں موجود ہے اسی طرح یہ سورۃ الفیل بھی آپ پر الہاماً نازل ہوئی ہے پھر جس طرح اصحاب الفیل کے پہلے حملہ میں اصل مقصد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تباہ کرنا تھا اسی طرح اب جو احمدیت پر حملہ ہو اہے وہ اسی لئے ہوا ہے کہ ہندو بھی جانتا ہے اور سکھ بھی جانتا ہے اور مسیحی بھی جانتا ہے کہ اگر اسلام نے غلبہ پایا تو احمدیت کے ذریعہ ہی غلبہ پائے گا۔پس اب بھی اس کا اصل مقصد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تباہ کرنا ہے کیونکہ مسیح موعود کا کام اپنا وجود منوانا نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود منوانا ہے۔آپ خود فرماتے ہیں۔ع وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے لیکن جس طرح گذشتہ زمانہ میں خانۂ کعبہ کو گرانے میں ابرہہ اور اس کا لشکر ناکام رہا تھا اسی طرح ہم جانتے ہیں اور اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ دنیا کی ساری طاقتیں اور قوتیں مل کر بھی اگر اس سلسلہ کو جسے خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین قائم کرنے کے لئے کھڑا کیا ہے مٹانا چاہیں تو وہ ساری طاقتیں مل کر بھی اس سلسلہ کو مٹا نہیں سکتیں۔ہم جانتے ہیں کہ ہم کمزور ہیں، ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اندر کوئی طاقت نہیں۔لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آسمان کی فوجیں ہماری تائید میں اتریں گی اور اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ کا نظارہ دنیا متواتر دیکھتی چلی جائے گی۔یہاں تک کہ وہی شخص جس کو مسلمانوں نے اپنی نادانی سے ٹھکرا دیا ہے اسی کے ہاتھوں سے اسلام دنیا میں دوبارہ قائم ہو گا اور معترضین ہمارے سامنے نہایت شرمندگی کے ساتھ وہی کچھ کہتے آئیں گے جو یوسفؑ کے بھائیوں نے اس سے کہا اور ہماری طرف سے بھی انہیں یہی کہا جائے گا کہ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ١ؕ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١ٞ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ (یوسف:۹۳) یہ کتنی عجیب بات ہے کہ غیر دنیا، کافر دنیا، بے دین دنیا جس کا مقابلہ ہماری جماعت کر رہی ہے وہ تو جانتی ہے کہ احمدیت کی اشاعت میں ہی عیسائیت کی موت ہے لیکن مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ احمدیت کی اشاعت میں نعوذباللہ اسلام کی تباہی ہے۔قادیان کے متعلق ایک عیسائی پادری کی رائے مجھے یاد ہے میری خلافت کے ابتدائی زمانہ میں پادری والٹر WALTER سکرٹری لٹریچر آل انڈیا وائی ایم سی اے پادری ہیوم HUME اور فورمن کرسچن کالج لاہور کے پرنسپل مسٹر لیوکس LUCAS مجھ سے ملنے کے لئے قادیان آئے اور مختلف امور پر گفتگو کرتے رہے۔واپس جاکر مسٹر لیوکس نے کولمبو میں عیسائیوں کے سامنے ایک لیکچر دیا جس میں کہا کہ آپ لوگ شاید یہ سمجھتے ہوں گے کہ عیسائیت کی