تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 375
انہیں یہ تو نظر ہی آتا ہے کہ بہ نسبت مسلمانوں کے عیسائی پردۂ زمین کے بہت زیادہ حصہ پر حاکم ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے ایک ایک روپیہ کے بدلہ میں ان کے پاس ایک ایک لاکھ روپیہ ہے۔وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک ایک تلوار کے مقابلہ میں ان کے پاس ایک ایک توپ ہے بلکہ ایک ایک توپ کا بھی سوال نہیں دس دس اور بیس بیس توپیں ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے لنگڑے ٹٹوؤں کے مقابلہ میں ان کے پاس ہوائی جہاز موجود ہیں۔ان کو معلوم ہے کہ جتنے غلیلے ان کے گھروں میں ہیں ان سے زیادہ مسیحیوں کے پاس توپ کے گولے ہیں اور یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ اس پر قسم اٹھائی جاسکتی ہے۔مگر اتنی بڑی مصیبت کے مقابلہ میں انہوں نے کیا تیاری کی ہے اور کون سی قربانیاں ہیں جو ان کی طرف سے پیش کی جارہی ہیں؟ میں نے ابھی چند دن ہوئے عراق کا ایک اخبار دیکھا جس میں فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے اس نے بڑے زور کے ساتھ لکھا تھا کہ تم کہتے ہو ہمارے دلوں میں فلسطین کی بڑی محبت ہے تمہاری محبت کی علامت تو یہی ہے کہ ستّر ستّر پونڈ پر تمہاری رائفلیں تمہارا دشمن لے گیا اور تم نے کچھ بھی خیال نہ کیا کہ ہم یہ کیا کررہے ہیں۔گویا دس پونڈ کے بدلہ میں جب تمہیں ستّر پونڈ مل گئے تو تم اپنے ملک سے غداری کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔جب تمہاری اپنے ملک سے محبت کی یہ حالت ہے تو تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ فلسطین میں تمہیں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے یہی نمونہ مسلمانوں نے اس جگہ دکھایا۔جن دنوں مسلمانوں کی بہو بیٹیاں سکھ اٹھا اٹھا کر لے جارہے تھے ان دنوں بعض غدار مسلمان مسلم لیگ سے رائفلیں خرید کر سکھوں کے آگے بیچ دیا کرتے تھے۔یہ مسلمانوں کی عملی حالت ہے اور پھر وہ اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ محض نعروں سے وہ جیت جائیں گے۔ان کے اللہ اکبر کے نعرے بھی جھوٹے ہیں، ان کے دعوے بھی جھوٹے ہیں اور ان کا یہ خیال کہ ہمیں اسلام پر یقین ہے یہ بھی محض دھوکا اور فریب ہے۔نہ انہیں خدا سے محبت ہے نہ رسولؐ سے محبت ہے نہ قرآن سے محبت ہے نہ اسلام سے محبت ہے۔جب تک وہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کریں گے ان کی ترقی کی کوئی صورت پیدا نہیں ہو گی۔اب بھی فلسطین میں شور پڑا ہوا ہے اور خیال کیاجاتا ہے کہ وہاں مسلمانوں کو بڑی بھاری طاقت حاصل ہے۔حالانکہ ہمارے آدمی وہاں موجود ہیں اور ان کی چٹھیاں ہمارے پاس آتی رہتی ہیں جو اتنی بھیانک اور خوفناک ہوتی ہیں کہ انہیں پڑھ کر دل لرز جاتا ہے۔ہمارے ایک مبلّغ نے لکھا ہے کہ اس جگہ کا وزیر جنگ اس سے ملا اور اس نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں پاکستان کو لکھو کہ وہ کسی طرح ہماری مدد کرے ہمارے دعوے ایک دھوکے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔اس وقت حالت یہ ہے کہ مصر، شام، عراق، لبنان اور شرق اردن وغیرہ سب نے مل کر حملہ کیا ہوا ہے مگر یہود برابر جیت رہے ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے یہ تو