تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 374
میں عیسائیت کو کامیابی حاصل ہوسکتی ہے یقیناً ایک مسلمان کے لئے اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ ٹکر جو اسلام اور عیسائیت میں ہونے والی ہے اس کا وہی کچھ نتیجہ نکلے گا جو ابرہہ کے وقت میں نکلا جبکہ وہ خانۂ کعبہ سے ٹکر لینے کے لئے آیا۔لیکن افسوس کہ باوجود اس کے کہ مسلمانوں کے پاس قرآن کریم موجود ہے۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ والی سورۃ موجود ہے اور وہ اسے ہر روز دیکھتے اور پڑھتے ہیں انہیں اس بات پر یقین نہیں کہ اس لڑائی میں آخر اسلام فتحیاب ہو گا اور عیسائیت ہارے گی۔یقین سے میری مراد صرف منہ کی لاف و گزاف نہیں بلکہ وہ معقول یقین مراد ہے جس کے ساتھ انسان کا عمل شامل ہوتا ہے۔بے شک جہاں تک زبان کے دعووں کا سوال ہے ہر مسلمان کہتا ہے کہ اسلام جیتے گا۔لیکن جہاں تک اسلام کی فتح اور کامیابی پر یقین کا سوال ہے ننانوے فیصدی مسلمان یہ یقین نہیں رکھتے کہ اس لڑائی میں اسلام جیتے گا۔شاید آپ لوگ یہ خیال کرتے ہوں کہ میں نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے جو واقعات کے خلاف ہے۔فلسطین میں مسلمان لڑ رہے ہیں ہندوستان میں بہت کچھ کوشش اور جدوجہد کر رہے ہیں پھر یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ مسلمان ننانوے فیصدی اسلام کی فتح پر یقین نہیں رکھتے۔میرا جواب یہ ہے کہ یقین کے ساتھ ہمیشہ عمل شامل ہوتا ہے وہ ایمان ہرگز ایمان نہیں کہلا سکتا جس کے ساتھ عمل کی قوت نہ ہو۔وہ ایک وسوسہ تو کہلا سکتا ہے۔اسے کمزوریٔ اخلاق تو کہا جا سکتا ہے۔مگر وہ سچا ایمان ہرگز نہیں ہو سکتا۔اگر سچا ایمان ہو تو یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان عمل نہ کرے۔اگر کسی کو پتہ ہوکہ میرا بچہ علاج سے بچ جائے گا تو کیا دنیا میں کوئی بھی شخص ایسا ہو سکتا ہے جو اپنے بچہ کے علاج میں کوتاہی کرے؟ اگر وہ اس کے علاج میں کوتاہی کرتا ہے تو دو ۲باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے۔یا تو وہ اللہ تعالیٰ کے قانون سے بالکل جاہل ہے اور جاہل میں ہرگز ایمان نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں بار بار فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کےعارف اور عالم بندے ہی اس پر ایمان لایا کرتے ہیں۔ا گر ایک شخص کے بچے کو نمونیا ہو جاتا ہے اور وہ اس کا علاج تو نہیں کرتا مگر یہ کہتا چلا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے گا تو کون کہہ سکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ پر سچا ایمان رکھتا ہے۔یقیناً وہ ایک جاہل آدمی ہے جو ایک ڈھکوسلا خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ اس کے ایمان کا ثبوت ہے۔اور یا پھر وہ اپنے بچہ کے علاج کی طرف اگر توجہ نہیں کرتا تو اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ اس نے تو مر ہی جانا ہے ڈاکٹر کی فیسوں پر مجھے روپیہ ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔لیکن جس شخص کو یقین ہو کہ میرا بچہ علاج سے ضرور اچھا ہو سکتا ہے اور جو خدا تعالیٰ کے قانون سے بھی جاہل نہ ہو وہ کبھی اپنے بچہ کے علاج میں غفلت سے کام نہیں لے سکتا۔اگر مسلمانوں کو بھی یقین ہوتا کہ عیسائیت پر اسلام نے غالب آنا ہے تو وہ کوشش اور وہ قربانی کیوں نہ کرتے جو اس کے لئے ضروری تھی۔