تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 351

کے لشکر پر غالب کر دیتا۔قرآن کریم میں صاف طور پر آتا ہے کہ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ(البقرۃ :۲۵۰) بہت سی چھوٹی جماعتیں بڑی بڑی طاقتوں پر غالب آجاتی ہیں۔بدر میں ایسا ہی ہوا۔غزوہ خندق میں ایسا ہی ہوا۔مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت تھی جو اپنے سے کئی گنا بڑی جماعت پر غالب آگئی۔لیکن بدر نے مکہ والوں کو ایسا ڈرایا نہیں کہ وہ مسلمانوں پر دوسرا حملہ نہ کریں۔وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کی جماعت ہم پر غالب تو آئی ہے مگر اس میں کوئی عجیب بات نہیں۔کبھی ایک آدمی تین پر بھی غالب آجاتا ہے بلکہ دنیا میں اس قسم کی بھی مثالیں ملتی ہیں کہ ایک دس پر غالب آگیا یا ایک بیس پر غالب آگیا۔پس بدر میں مسلمانوں کے غلبہ کے باوجود کفار ڈرے نہیں۔لیکن کعبہ پر حملہ آور ہونے والوں کی تباہی کا واقعہ خدا نے بغیر کسی انسانی ہاتھ اور تدبیر کے اس لئے ظاہر کیا تاکہ لوگ ڈر جائیں اور وہ یقین کر لیں کہ اس واقعہ میں خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔پس اس موقعہ پر خدا تعالیٰ نے بھی ایک سوچی ہوئی تدبیر اختیار کی جیسے انسان نے بھی ایک سوچی ہوئی تدبیر اختیار کی تھی۔ایک انسان نے ایک گرجا بنایا مگر اس لئے نہیں کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے بلکہ اس لئے کہ عربوں کی توجہ خانۂ کعبہ کی طرف سے ہٹا کر اس کی طرف مبذول کرا دے۔پھر عربوں میں منادی کی گئی اور خاص طور پر وہ عرب رؤوسا چنے گئے جن کا پبلک پر اثر تھا اور ان کو انعام و اکرام کے وعدے دے کر اس غرض کے لئے مقرر کیا گیا کہ وہ لوگوں میں یہ پراپیگنڈہ کریں کہ آئندہ خانۂ کعبہ کی بجائے اس گرجے کا حج کیا جائے حالانکہ حج گرجوں کانہیں ہوا کرتا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہاں اصل مقصد گرجے کا قیام نہ تھا بلکہ خانۂ کعبہ کے مقام کو گرانا مقصود تھا۔اسی طرح یہاں اللہ تعالیٰ کی اصل غرض ابرہہ کو مارنے کی نہیں تھی بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستہ سے ہر قسم کی روکوں کو دور کرنا تھی۔پھر جس طرح مکہ پر حملہ اتفاقی نہیں ہوا اسی طرح ابرہہ کی تباہی بھی اتفاقی نہیں ہوئی۔اس کی غرض بھی یہی تھی کہ عرب کے نبی کے لئے ترقی کے امکانات بالکل مٹا دیئے جائیں۔اور خدا تعالیٰ کی غرض بھی یہی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی کے لئے یمن کی حکومت بالکل مٹا دی جائے تاکہ آپ ہر قسم کے خطرہ میں آئے بغیر ترقی کر سکیں۔اصل بات یہ ہے کہ زمانۂ محمدی کے متعلق جو پیشگوئیاں سابق کتب میں پائی جاتی تھیں ان کے آثار ظاہر ہونے لگ گئے تھے۔مسیحیوں نے ان پیشگوئیوں کو یا تو بائبل سےا خذ کیا تھا یا ان کے اولیاء نے جو پیشگوئیاں کی تھیں ان سے انہوں نے یہ نتائج اخذ کئے تھے۔بائبل کی پیشگوئیاں توبالکل واضح ہیں جیسے استثناء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ’’میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا۔‘‘ (استثناء باب ۱۸آیت ۱۸) دوسری جگہ اس قسم کے الفاظ آتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تیرے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔