تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 330
بھی خانۂ کعبہ کو مانتے تھے بلکہ حج بھی کرتے تھے مگر پھر بھی لات کی وجہ سے انہیں خانۂ کعبہ سے رقابت تھی اور وہ محسوس کرتے تھے کہ خانۂ کعبہ کی موجودگی میں ہمارا بت خانہ لوگوں کا مرجع نہیں بن سکتا۔اس کی کچھ یہ بھی وجہ تھی کہ طائف کے لوگ بڑے مالدار تھے اور ان کی زمین بڑی اعلیٰ درجہ کی تھی وہاں کا انگور اور انار اتنا میٹھا اور لذیذ ہوتا ہے کہ دنیا میں اور کہیں اس قسم کا انگور اور انار نہیں ملتا۔یورپ کے لوگ اٹلی کے انگو رکو سب سے بہتر سمجھتے ہیں مگر میں نے سفر یورپ میں اٹلی کا انگور بھی کھایا ہے اور طائف کا انگور بھی میں کھا چکا ہوں میں سمجھتا ہوں اگر طائف کے انگور کو میں سو نمبر دوں تو اٹلی کے انگور کو میں صر ف دس نمبر دے سکتا ہوں۔طائف کے مقابلہ میں اٹلی کے انگور کی کوئی نسبت ہی نہیں۔انار بھی میں نے کسی جگہ کا اتنا میٹھا نہیں دیکھا جس کو کھا کے منہ میٹھے سے پھر جائے۔لیکن طائف کا انار ایسا ہے کہ اس کے کھانے سے منہ میٹھے سے پھر جاتا ہے۔بہت ہی تیز مٹھاس اس میں ہوتی ہے۔پس چونکہ وہ مالدار تھے اور پھر لات کا بت خانہ بھی طائف میں تھا۔اس لئے وہ مکہ والوں سے رقابت رکھتے تھے اور ان کو یہ خیال رہتا تھا کہ ہمارا مندر کیوں اتنا بڑا نہیں سمجھا جاتا جتنا خانۂ کعبہ سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ باوجود اس کے کہ وہ حج کرنے کے لئے بھی جاتے تھے ان کی کوشش رہتی تھی کہ لات کے مندر کا رتبہ کسی طرح خانۂ کعبہ سے زیادہ ہو جائے یا کم از کم خانۂ کعبہ کے برابر ہو جائے۔اب جو انہوں نے ابرہہ کو آتے دیکھا تو ان کی رقابت جوش میں آگئی اور انہوں نے سمجھا کہ ابرہہ خانۂ کعبہ کو گرادے گا تو لات کے مندر کی طرف لوگوں کی توجہ بڑھ جائے گی۔چنانچہ جب ابرہہ آیا تو مسعود بن معتب اس کے استقبال کو نکلا اور اس نے ابرہہ سے کہا کہ ہم کو آپ سے کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہمیں خانۂ کعبہ سے کوئی ہمدردی ہے اور ہم تو آپ کےمطیع اور فرمانبردار ہیں۔ہم آپ کے ساتھ ایک آدمی کر دیتے ہیں جو آپ کو سیدھا مکہ تک لے جائے۔کیونکہ آگے وادیاں زیادہ خطرناک ہیں ممکن ہے لشکر بھٹک جائے اور وہ مکہ تک نہ پہنچ سکے۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے جذباتِ عقیدت کو پیش کرتے ہوئے کہا ہمارے گرجا کو کچھ نہ کہیے۔وہ تو کسی اور گرجا کو گرانے کے لئے نکلا ہی نہیں تھا وہ تو صرف خانۂ کعبہ کو گرانے کے لئے نکلا تھا۔کیونکہ اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو چکا تھا کہ خانۂ کعبہ عرب کو عیسائیت کی طرف لانے میں مخل ہے۔جب اس نے اپنے گرجے کا ذکر کیا کہ اسے کچھ نہ کہا جائے تو ابرہہ نے اس کی بات فوراً مان لی بلکہ اسے کچھ انعام بھی دیا۔اس نے ابورغال نامی ایک شخص کو راستہ دکھانے کے لئے ابرہہ کے ساتھ روانہ کیا۔جب لشکر مغمس نامی مقام پر پہنچا جو مکہ کے بالکل قریب ہے تو وہاں ابورغال مر گیا اور اس کی قبر وہاں بنائی گئی۔عرب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک بلکہ بعد میں بھی (میں کہہ نہیں سکتا کہ اب وہ قبر ہے یا نہیں مجھے ذاتی طو رپر اس کا کوئی علم نہیں) جب بھی اس قبر کے