تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 329

بتاتا ہے کہ ذونفر سمجھتا تھا کہ ابھی آئندہ اور کئی قبائل ابرہہ سے لڑنے کے لئے آئیں گے۔اگر مجھے زندہ رکھو گے تو درمیانی صلح کرانے والے کے طور پر مجھ سے کام لے سکتے ہو۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ابرہہ کے اس ارادہ سے سارے عرب میں ایک آگ لگ چکی تھی اور تمام عرب سمجھتے تھے کہ اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔اس کے بعد ابرہہ کا لشکر شمال کی طرف اور بڑھا اور بڑھتے بڑھتے خثعم قبیلہ کی زمین پر پہنچا۔طائف اور یمن کے درمیان اس قبیلہ کا علاقہ ہے۔وہاں ایک دوسرا عرب لشکر اس کے مقابلہ کے لئے تیار تھا جو نفیل بن حبیب الـخثعمی کی زیر قیادت تھا۔اس لشکر میں قبیلۂ خثعم کے بھی آدمی تھے اور شہدان اور ناعس کے بھی لوگ تھے۔شہدان اور ناعس بعض لوگوں کے نزدیک خثعم کا ہی حصہ ہیں اور بعض کے نزدیک یہ علیحدہ قبائل تھے۔انہوں نے بھی مل کر خانۂ کعبہ کی حفاظت کے لئے ابرہہ کا مقابلہ کیا مگر پھر وہی بات ہوئی۔یہ لوگ قبائلی تھے جو چھٹے مہینے یا سال میں ایک دفعہ لڑنے کے لئے چلے جاتے تھے اور وہ باقاعدہ منظم فوج تھی جو چھاؤنیوں میں تربیت حاصل کرتی تھی اور روزانہ فوجی مشقیں اور ورزشیں کرتی تھی۔اس کا اور ان کا مقابلہ ہی کیا ہو سکتا تھا۔نہ فنون جنگ کا علم رکھنے کے لحاظ سے دونوں کی کوئی نسبت تھی اور نہ سامان کے لحاظ سے کوئی نسبت تھی۔یہ لوگ بڑی بے جگری سے لڑے اور ان میں سے بہت سے مارے گئے۔اور بہت سے زخمی ہوئے مگر آخر انہوں نے بھی شکست کھائی اور نفیل بن حبیب الـخثعمی قید کر لیا گیا۔اسے بھی ابرہہ نے قتل کرنا چاہا مگر جب نفیل نے کہا کہ مجھے زندہ رکھنے سے شہدان اور ناعس کے قبیلوں پر اس کا اثر بڑھ جائے گا۔تو اس نے اسے زندہ رکھا اور راستہ دکھانے کے لئے اپنے ساتھ لے لیا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ عربوں میں اس وقت ایمان بہت کمزور ہو چکا تھا۔یوں وہ بڑی دلیری سے لڑتے تھے مگر جب اپنی جان کا سوال آتا تو لالچ میں آجاتے۔یہی نفیل نے کیا۔جب اسے قتل کیا جانے لگا تو اس نے ابرہہ کو اپنی خدمات پیش کر دیں اور کہا کہ آگے جنگل ہے۔آپ کو راستہ ملنا مشکل ہو گا۔اگر مجھے زندہ رکھا جائے تو میں لشکر کو خانۂ کعبہ تک پہنچادوں گا۔چنانچہ بادشاہ نے اس کی اس پیشکش کو قبول کر لیا اور اسے قید کر کے اپنے ساتھ لے لیا۔یہ لشکر پھر اور آگے بڑھا۔جب طائف کے قریب پہنچا تو طائف کا سردار مسعود بن معتب جو ثقیف قوم میں سے تھا (یہی قوم ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا زمانۂ بچپن گذارا ہے۔اور یہی قوم ہے جس سے آپؐکی وہ آخری جنگ ہوئی جسے غزوۂ حنین کہتے ہیں) ثقیف قوم کے بڑے بڑے لوگوں کو لے کر بادشاہ کے استقبال کو نکلا یہ یاد رکھنا چاہیے کہ لات بُت جس کا قرآن کریم میں بھی ذکر آتا ہے اور جس کا ذکر بعض دفعہ اردو شعراء بھی اپنے کلام میں کر لیتے ہیں۔اس کا بُت خانہ اسی طائف میں تھا اس نے آگے آکر بادشاہ سے کہا کہ اے بادشاہ ہم کو آپ سے کوئی اختلاف نہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ طائف والے