تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 303
اور سمجھتے ہو اور تم سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے۔اَلَمْ تَرَ کے متعلق ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی مخاطب تو ساری دنیا ہے۔آیا اَلَمْ تَرَ میں بھی ساری دنیا مخاطب ہے یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں یا دشمنانِ اسلام مخاطب ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ یوں تو قرآن کریم ساری دنیا کے لئے ہے خواہ بعض آیات میں براہ راست محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کیوں نہ مخاطب ہوں مگر اس سورۃ کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں خطاب براہ راست محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہے اور پھر آپؐکے توسط سے باقی دنیا مخاطب ہے چنانچہ آگے ہی فرماتا ہے۔كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ تیرے رب نے کس طرح کیا۔یوں تو خدا تعالیٰ سب کا رب ہے مگر جب ایک ایسے واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے جو عرب اور خصوصاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے تعلق رکھتا ہے تو رَبُّكَ کے الفاظ سے یہی سمجھا جائے گا کہ اس میں خطاب خصوصیت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے ہی کیا گیا ہے۔غرض اس آیت میں ت اور ک یہ دو ضمائر خطاب کی ہیں۔پس تَرَ اور رَبُّكَ یہ دو الفاظ جو اس جگہ آئے ہیں بتاتے ہیں کہ اس واقعہ کا تعلق خصوصیت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے اور اس سورۃ میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس کا اصل اور اہم تعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ہے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے اس کا خاص تعلق نہ ہوتا تو رَبُّكَ کہنے کی کیا ضرورت تھی۔مثلاً ہم یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ تمہیں پتہ ہے ’’تمہارے خدا‘‘ نے نادر شاہ سے کیا کیا۔ہم یہ تو کہیں گے کہ تمہیں پتہ ہے خدا نے نادر شاہ سے کیا کیا مگریہ نہیں کہیں گے کہ ’’تمہارے خدا‘‘ نے اس سے کیا سلوک کیا۔کیونکہ تمہارے کا لفظ خاص تعلق کی طر ف اشارہ کرتا ہے۔اسی طرح جب خدا نے کہا کہ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ تیرے خدا نے اس سے کس طرح کا سلوک کیا تو اس کے معنے درحقیقت یہی ہیں کہ ہم نے اس وقت جو کچھ کیا تھا محض تیرے لئے کیا تھا۔ورنہ اگر یہ مفہوم نہ لیا جائے تو اصحاب الفیل کے واقعہ کا علم رکھنے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا خصوصیت ہے عرب کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ ایسا واقعہ ہو اہے بلکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تک ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے اصحاب الفیل کا واقعہ دیکھا تھا ایسی صورت میں اَلَمْ تَرَ کہنے کے کوئی معنے ہی نہیں بنتے۔وہ واقعہ جو اور ہزاروں لوگوں کو معلوم تھا اور جس کو دیکھنے والے بھی کئی زندہ موجود تھے۔اسی واقعہ کا اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی علم ہو گیا تو اس میں آپؐکی خصوصیت کیا رہی۔آپؐکی خصوصیت اسی صورت میں ظاہر ہوتی ہے کہ اس واقعہ کا آپؐسے کوئی خاص تعلق ہو۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ میں كَيْفَ استعمال کرنے میں حکمت پھر اس آیت میں اَلَمْ تَرَ كَيْفَ