تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 259

کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ کاش ہماری زبان کی کوئی ایسی لغت ہوتی جیسی عربی زبان کی ہے۔گو اس فقرہ کے ذریعہ اس نے تسلیم کیا ہے کہ عربی زبان کی لغت مکمل ہے مگر میرا خیال ہے جس رنگ میں ہم لغت کی تحقیق و تد قیق کرتے ہیں اور جس قسم کی تحقیق کی قرآن کریم کی تفسیر کے لئے ہمیں ضرورت پیش آتی ہے اس کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے ابھی اور زیادہ لغت کی تحقیق کی ضرورت ہے۔پرانی لغتوں میںایک خفیف سا نقص یہ پایا جاتا ہے کہ بعض جگہ مفسرین کے اقوال کو بھی لغت میں شامل کر لیا گیا ہے۔اگر اس نقص کو دور کر دیا جائے اور لغت کی حکمت کو زیادہ واضح کیا جائے تو عربی زبان کی ایک ایسی لغت مکمل ہو جائے گی جس کی مثال دنیا کی اور کسی زبان میں نہیں مل سکے گی۔بہر حال جب دو قریب المعنیٰ الفاظ آجائیںتو ان دونوں کا آپس میںجو اختلاف ہوتا ہے صرف اس کو لیا جاتا ہے۔کیونکہ بلاغت کا یہ قاعدہ ہے کہ جب دو لفظ بولے جائیں اور وہ دونوں آپس میں مشترک معنے رکھتے ہوں تو دوسرے لفظ کے صرف وہ معنے لینے چاہئیں جن میں اس کا پہلے سے اختلاف پایا جاتاہو۔یہ امر ظاہر ہے کہ مشترک معنوں کے لئے دو لفظوں کی ضرورت نہیں ہو سکتی ایک لفظ بھی پورا کام دے سکتا ہے۔پس جب دو لفظ اکٹھے استعمال ہوں اور دونوں قریب المعنیٰ ہوں تو ہمیشہ دوسرے لفظ کے وہ معنے لئے جاتے ہیں جن میں وہ پہلے سے مختلف ہوں۔ھمز اور لمز کے معنے کی تعیین اس اصول کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔پہلی صورت تو یہ ہے کہ ھمز کو مار پیٹ کے معنوں میں لیا جائے کیونکہ ھمز میں ماریا جسمانی ضرب کے معنے زیادہ پائے جاتے ہیں۔اصل میں ھمز کے معنے کسر یعنی توڑنے کے ہوتے ہیں پس چونکہ اس کے اصل معنے توڑنے کے ہیں اس لئے ھمز میں مارنے پیٹنے کے معنے زیادہ پائے جاتے ہیں۔پس ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم ھمز کے معنے مارنے پیٹنے کے لیں اور لمز کے دوسرے معنے لے لیں یعنی عیب چینی وغیرہ کے۔اور دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ھمز کے معنے ہم غیبت کے کر لیں اور لمز کے معنے عیب چینی کے کئے جائیں۔یہ فرق میں نے کیوں کیا ہے؟ یعنی میں کیوں کہتا ہوں کہ ھمز کے معنے مارنے پیٹنے کے ہیں اور لمز کے معنے عیب چینی کے ہیں یا ھمز کے معنے غیبت کے ہیں اور لمز کے معنے عیب چینی کے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فصیح کلام میں ہمیشہ تدریج پائی جاتی ہے اور یہ تدریج کبھی اقسام کے لحاظ سے ہوتی ہے اور کبھی ڈگری کے لحاظ سے۔مثلاً ایک ادیب شخص اگر کسی کے متعلق یہ بیان کرنا چاہے گا کہ وہ کافی بوجھ اٹھا سکتا ہے تو وہ کہے گا کہ فلاں شخص ایک من بوجھ اٹھا سکتا ہے بلکہ دو من بھی اٹھا سکتا ہے۔لیکن جو ادیب نہیں وہ کہے گا کہ فلاں شخص دو من بوجھ اٹھا سکتا ہے بلکہ ایک من بھی اٹھا سکتا ہے۔ہر شخص جو اس فقرہ کو سنے گا یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ یہ فقرہ فصاحت سے گرا ہوا ہے کیونکہ جب اس نے یہ کہہ دیا تھا کہ فلاں شخص د و من بوجھ اٹھا سکتا ہے تو اسے علیحدہ طور پر