تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 255
سُوْرَۃُ الْھُمَزَۃِ مَکِّیَّۃٌ سورئہ ہمزہ یہ مکی سورۃ ہے وَھِیَ تِسْعُ اٰیَاتٍ دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَ فِیْـھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اس کی بسم ا للہ کے سوا نو آیات ہیں اور ایک رکوع ہے سورۃ ہمزہ مکی ہے سورۂ ہمزہ اکثر مفسرین کے نزدیک مکی ہے۔مستشرقین یورپ بھی اسے ابتدائی مکی سورتوں میں سے قرار دیتے ہیں۔اس سورۃ میں زمانۂ رسالت کے لوگوں کا حال بتایا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دکھ دیتے تھے اور اپنے اموال پر مغرور تھے۔ھُمَزوَ لُمَز کے معنی عیب چینی اور غیبت کے بھی ہوتے ہیںاور دکھ اور تکلیف دینے کے بھی ہوتے ہیں اور یہ دونوں معنی یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔یعنی وہ دکھ بھی دیتے تھے اور عیب چینی اور غیبت بھی کرتے تھے۔پھر اس سورۃمیں یہ بتایا گیا ہے کہ باوجود اہل مکہ کے مالدار ہونے کے اور باوجوداپنے اموال پر فخر کرنے کے اور باوجود اس کے کہ وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتے تھے ان کی طرف کئی قسم کے عیوب منسوب کرتے تھے اور ان کی غیبتیں کیا کرتے تھے پھر بھی وہ لوگ ایک ایسے دکھ میں مبتلا ہو جائیں گے اور ایک ایسے عذاب سے پکڑے جائیں گے کہ ان کے دلوں کا چین بالکل اڑ جائے گا اور وہ آخر ہلاک اوربرباد ہو جائیں گے۔ترتیب سورۃ ہمزہ کا تعلق سورۃ عصر سے اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے تعلق اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔یعنی یہ سورتیںیکے بعد دیگر ے باری باری اسلام کے ابتدائی دور اور آخری دور کے متعلق آرہی ہیں پہلی سورۃ یعنی وَ الْعَصْرِ کا تعلق زیادہ تر آخری دور کے ساتھ ہے۔اب اس سورۃ میںاسلام کے پہلے دور کا ذکر کیا گیا ہے۔در حقیقت یہ چھوٹی چھوٹی سورتیں جو قرآن کریم کے آخر میں ترتیب مستقل کے طور رکھی گئی ہیں ترتیب نزول کے مطابق ابتدائے اسلام میں نازل ہوئی تھیں سوائے چند ایک کے جو بعد از ہجرت نازل ہوئیں۔ان سورتوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے دونوں دوروں کامتوازی ذکر کیا گیا ہے مگر جیساکہ قرآن کریم کا اسلوب ہے یہ ذکر اس طرح ہے کہ اس زمانہ کے لوگ آخری دور والی سورتوں سے بھی فائدہ اٹھاسکتے تھے اور دور اوّل والی سو ر توں سے آج کل کے لوگ بھی برابر کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔یہ قرآن کریم کا