تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 234

ہیں کہ ہماری کامیابی کا ذریعہ یہ ہے کہ ہم انجمنیںبنائیں، مدرسے جاری کریں، یونیورسٹیاں اور کالج قائم کریں، صنعت و حرفت اور تجارت کی طرف توجہ کریں اور اس طرح اپنی ذلت و نکبت کو دور کرکے ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑے ہوجائیں وہ یہ نہیں دیکھتے کہ آ ج تک کوئی ایک مثال بھی تو ایسی نہیں ملتی کہ کسی مذہبی جماعت کو تنزّل کے بعد محض دنیوی تدابیر سے غلبہ حاصل ہوگیا ہو۔جب بھی کوئی مذہبی جماعت گری ہے اسے نبی کے ذریعہ ہی دوبارہ عروج حاصل ہوا ہے۔اس کے بغیر عروج حاصل ہونے کی کوئی ایک مثال بھی تاریخ سے پیش نہیں کی جاسکتی۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ اگر یہ بات درست ہے تو انگلستان کیوں ترقی کرگیا یا امریکہ کیوں ترقی کرگیا۔یہ لوگ کس نبی پرایمان لائے تھے کہ انہیں ساری دنیا پر غلبہ حاصل ہوگیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ بات ہی غلط ہے کہ انگلستان اور امریکہ وغیرہ نے تنزّل کے بعد ترقی کی ہے۔ان قوموں میں سے سوائے جاپان کے اور کوئی قوم ایسی نہیں جس نے ترقی کے مقام سے گرنے کے بعد دوبارہ عروج حاصل کیا ہو۔ان کے متعلق یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے وحشیانہ حالت سے ترقی کرتے کرتے عروج حاصل کرلیا۔مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ایک دفعہ ترقی حاصل کرنے کے بعد جب یہ لوگ بالکل گر گئے تھے تو دوبارہ اپنی تدابیر سے انہوں نے ساری دنیاپر غلبہ حاصل کرلیا۔میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ کوئی مذہبی جماعت (یعنی جو سچے مذہب کی طرف منسوب ہو) جو ایک دفعہ ترقی حاصل کرنے کے بعد گرجائے وہ اس وقت تک کبھی ترقی نہیں کرسکتی جب تک کوئی نبی اس کی طرف مبعوث نہ ہو۔مگر یہ قومیں تو وہ ہیں جو ترقی حاصل کرنے کے بعد ابھی گری نہیں۔انہوںنے بے شک ادنیٰ حالت سے ترقی کرتے کرتے یہ مقام حاصل کیا ہے مگر یہ نہیں ہوا کہ تنزّل کے بعد انہوں نے دوبارہ ترقی کی ہو۔صرف جاپان کی مثال اس سوال میں پیش کی جاسکتی ہے مگر وہ بھی یہاں چسپاںنہیں ہوتی۔اس لئے کہ اگر کوئی قوم خالص دنیوی ذرائع سے کام لے کر ترقی کرجاتی ہے تو وہ وہی قوم ہوتی ہے جس میں نورِ الہام بند ہوچکا ہوتاہے۔جب تک کوئی قوم نورِ الہام سے دور نہیں ہوتی اور وہ کسی سچے نبی کو جس کا زمانہ نبوت جاری ہوتا ہے مان رہی ہوتی ہے اس وقت تک وہ قوم کبھی دوبارہ ترقی نہیں کرسکتی جب تک کسی مامور کے ذریعہ سے اسے ترقی نہ ملے۔چونکہ آج کل مسلمانوں کے سوا باقی تمام اقوام زندہ دین سے دور ہوچکی ہیں اس لئے ہندو اگر خالص دنیوی تدابیر سے کام لے کر ترقی کرلیں تو وہ کرسکتے ہیں کیونکہ وہ سچے دین کی طرف منسوب نہیں۔جب وہ ایک سچے دین کی طرف منسوب تھے اور جب تک ہندو مذہب زندہ تھا پہلے کرشنؑ آئے جن پر ایمان لاکر انہیں ترقی حاصل ہوئی۔پھر رامؑ آئے جن پر ایمان لاکر انہیں ترقی حاصل ہوئی۔پھر بدھؑ آئے جن پر ایمان لاکر انہیں ترقی حاصل ہوئی یا ہندوئوں کے نزدیک پہلے رامؑ پھر کرشنؑ