تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 206

پیاس ہوتی ہے، نیکیوں میںبڑھنے کا مادہ بھی ہوتا ہے مگر اس بات کی طرف انہیں کبھی توجہ پیدا نہیں ہوتی کہ اپنی اولاد میں بھی وہ یہ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں۔بے شک ورثہ کے ذریعہ بھی ماں باپ کے بعض خصائص اولاد میں منتقل ہو جاتے ہیں مگر اعلیٰ نسل کا بہت بڑا تعلق اعلیٰ تربیت سے ہوتا ہے اور مومن کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس پہلو میں کبھی غفلت سے کام نہ لے۔اگر ہر شخص خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا اپنی اولاد کی نیک تربیت میں مشغول ہو جائے اور کوشش کرے کہ اس کی اولاد اس سے بڑھ کر اسلام کی فدائی ثابت ہو تو مسلمانوں میں کبھی تنزّل پیدا نہ ہو۔بڑی وجہ قومی انحطاط کی یہی ہوتی ہے کہ اولاد کی تربیت کی طرف توجہ نہیں کی جاتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کثرت محض بے کار بن کر رہ جاتی ہے اور قوم کا رعب بالکل مٹ جاتا ہے۔پس اصل چیز جس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہماری آئندہ نسلیں نیکی اور تقویٰ کے میدان میں ہم سے بھی تیز تر ہوں کیونکہ یہی وہ چیز ہے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فخر کرسکتے ہیں۔محض کثرت ایسی چیز نہیں جو کسی کو مطمئن کرنے کے لئے کافی ہو۔حضرت علیؓ کا قول ہے کہ اَنَا قَطَعْتُ خُرْطُوْمَ الْکُفْرِ بِسَیْفِیْ فَصَارَ الْکُفْرُ مُثْلَۃً ( روح البیان زیر سورۃ التکاثر) یعنی میں وہ شخص ہوں جس نے تلوار کے ذریعہ کفر کا ناک کاٹ دیا ہے۔چنانچہ اب وہ نکٹا ہو گیا ہے۔مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خدمت اسلام کی ایسی اعلیٰ درجہ کی توفیق عطا فرمائی ہے کہ کفر و شرک سے تعلق رکھنے والے تمام اہم امور کا میرے ہاتھوں سے قلع قمع ہو چکا ہے۔اب اس میں طاقت نہیں کہ میرے مقابلہ میں اپنا سر اٹھا سکے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ حضرت علیؓ میں تکبر پیدا ہو گیا تھا یا آپ اپنی خدمات کی وجہ سے دوسروں کو اپنے مقابلہ میں حقیر سمجھنے لگ گئے تھے بلکہ مطلب یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے جس اہم کام کو سر انجام دینے کی مجھے توفیق عطا فرمائی ہے میری خواہش ہے کہ تم بھی وہی کام کرو اور اسی راستہ پر چلو جس پر میں چلا ہوں۔پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ( البقرۃ:۱۴۹) اے مومنو! تم نیکیوں میںبڑھنے کی کوشش کرو۔استباق کے معنے صرف خود بڑھنے کے نہیں ہوتے بلکہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھنے کے ہوتے ہیں۔پس اس حکم کا صرف اتنا مفہوم نہیں کہ تمہیں ذاتی طور پر نیکیوں میں ترقی کرنی چاہیے بلکہ اس کا یہ بھی مفہوم ہے کہ تمہیں دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ اس دوڑ میں شامل کرنا چاہیے اور شانہ بشانہ چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہیے۔اگر کسی قوم میں استباق کی روح پیدا ہو جائے تو وہ اپنی ترقی کی منازل سالوں اور مہینوں کی بجائے دنوں اور گھنٹوں میں طے کر سکتی ہے مثلاً اگر کسی شخص نے قرآن مجید کا ایک پارہ پڑھ لیا ہے تو وہ اس حکم کے مطابق کوشش کرے گا کہ دوسروں کو بھی وہ پارہ پڑھا دے اور اگر کسی نے ترجمہ