تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 200

اس کے کان میں یہ ایک نئی آوازآنی شروع ہو جاتی ہے کہ یہ لوگ بہت بڑے ہو گئے ہیں۔دنیوی ترقی سے پہلے تو یہ آوازیں آیا کرتی تھیں کہ یہ لوگ نماز یں پڑھنے والے،روزے رکھنے والے، دعائیں کرنے والے،صدقہ وخیرات میں حصہ لینے والے،غرباء اوریتامیٰ و مساکین کا خیال رکھنے والے ہیں۔لیکن جب انہیں غیر قوموں پر غلبہ حاصل ہو جاتا ہے تو لوگ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ لوگ تو بڑے دولت مند ہیں،بڑے با اثر ہیں،بڑی رعایا ان کے ماتحت ہے،ان کا مقابلہ ہم کہاں کر سکتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب زمانہ نبوت سے بُعد ہو جاتا ہے اور وہ لوگ مر جاتے ہیں جنہوں نے نبی کی صحبت میں اپنا وقت گذارا ہوتا ہے اور جو جانتے تھے کہ ہم کچھ نہیں تھے جو کچھ ہوا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا اور جو کچھ ہوگا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوگا تو ان کی اولادیں نفس کی آواز کی نسبت دوسرے لوگوں کی آوازوں پرزیادہ کان دھرنا شروع کر دیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ اب دوسروں کا فرض ہے کہ ہماری غلامی اختیار کریں۔چنانچہ دیکھ لو ایک عرصہ کے بعدصحابہ ؓ کو بڑی عظمت حاصل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حکومتیںبھی دے دیں مگر چونکہ وہ اپنے نفس میں یہ سمجھتے تھے کہ ہم اونٹوں کے چرواہے تھے اس لیے ان میں حکومت کے زمانہ میں بھی کبر پیدا نہیں ہوا۔جب کسریٰ کے خزانے فتح ہوئے تو مال غنیمت میں کسریٰ کا وہ رومال بھی آیا جو وہ اس وقت اپنے ہاتھ میں لیا کرتا تھا جب وہ تخت پر بیٹھتا تھا۔کسریٰ کو اس رومال کی عظمت کا کوئی احساس ہوگا لیکن صحابہؓ اس کی کیا عظمت سمجھتے تھے۔ان کے نزدیک تو ساری عظمت نماز میں تھی، روزہ میں تھی، حج میں تھی، زکوٰۃ میں تھی،صدقہ و خیرات میں تھی، غریبوں کو کھانا کھلانے میں تھی،تعلیم میں تھی، تربیت میں تھی۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان کے دلوں میں ان چیزوں کی کوئی قدر نہیں تھی بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے مقابلہ میں جو اس نے ان پر اس رنگ میں کیا کہ انہیں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا نصیب ہوا ان چیزوں کو بالکل حقیر سمجھتے تھے۔جس طرح آج کل کے بعض فیشن ایبل نوجوان اپنی جیب میں رومال ذرا باہر نکال کر رکھتے ہیں تاکہ لوگوں کو بھی نظر آتا رہے اسی طرح کسریٰ یہ رومال تخت پر بیٹھتے وقت اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا۔یہ رومال مال غنیمت میں تقسیم ہو کر حضرت ابوہریرہؓ کے حصہ میں آیا۔ایک دن انہیں کھانسی اٹھی اور بلغم آیا تو انہوں نے وہ رومال نکال کر اس میںتھوک دیا اور پھر کچھ خیال آنے پر کہا بَـخِّ بَـخِّ اَبُوْہُرَیْرَۃَ۔واہ وا ابوہریرہ تیری بھی کیا شان ہے کبھی بھوک کی وجہ سے تجھے جوتیاں پڑا کرتی تھیں اور آج تو کسریٰ کے رومال میں تھوک رہا ہے۔لوگوں نے پوچھا کہ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا میں نے جب اسلام قبول کیا تو اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر ایک لمبا عرصہ گذر چکا تھا چنانچہ میرے ایمان لانے کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف تین سال