تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 199
عیسٰیؑ کے ماننے والے کیا تھے ؟چند مچھلیاں پکڑنے والے معمولی افراد تھے مگر عیسٰیؑ کو مان کر دنیا کے بادشاہ بن گئے۔محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ماننے والے کیا تھے؟اونٹوں کے چرواہے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی برکت سے وہ دنیا کے بادشاہ بن گئے۔پس انبیاء صرف دین ہی نہیں لاتے بلکہ جوں جوں ان کی جماعت ترقی کرتی جاتی ہے ان کو دنیوی طور پر بھی غلبہ ملتاجاتاہے اور جب یہ غلبہ انہیں حا صل ہو جاتا ہے تو وہ لوگ جن پر ان کی نیکی اور تقویٰ اور روحانیت کا کوئی اثر نہیں ہوتا وہ ان کے ظاہری غلبہ کو دیکھ کر متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ان لوگوں کا مقابلہ کس طرح ہو سکتا ہے ان کو تو بہت بڑی شوکت حاصل ہوگئی ہے۔غرض ایک مومن جماعت کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں۔ایک اس کی ذاتی حیثیت ہوتی ہے اور ایک حیثیت وہ ہوتی ہے جس میں اسے دوسرے لوگ دیکھتے ہیں۔جب مومن اپنے نفوس پر ذاتی حیثیت سے غور کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں الحمد للہ ہم لوگ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے والے، اس کی توحید کو تسلیم کرنے والے،اخلاق پر عمل پیرا ہونے والے اور اس کے اوامر کو پوری دیانت داری کے ساتھ بجا لانے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہم پر کتنا بڑا احسان کیا کہ اس نے اپنا نبی ہم میں بھیجا اور پھر اس نے ہمیں توفیق بخشی کہ ہم اس پر ایمان لائیں اور اپنی زندگی اس کی غلا می میں بسر کریں۔لیکن دوسرے لوگ اس حقیقت کو نہیں دیکھتے وہ صرف ان کی ظاہری عظمت کو دیکھ کر عش عش کر اٹھتے ہیں اور کہتے ہیں انہیں کتنی بڑی طاقت حاصل ہو گئی ہے۔جب ابوبکرؓ اور عمرؓ کو صحابہؓ دیکھتے تھے تو ابوبکرؓ بادشاہ یا عمرؓ بادشاہ کی حیثیت میں نہیں دیکھتے تھے بلکہ اس حیثیت میں دیکھتے تھے کہ ابو بکرؓ وہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا اور جسے اسلام کے لیے بہت بڑی قربانیاں کرنے کا موقع ملا۔اسی طرح عمرؓ وہ ہے جس نے ا سلام کی بہت بڑی خدمات سر انجام دیں۔وہ ان کی خوبی ان کی ظاہری شوکت میں نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کی بڑی خوبی یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نمازوں میں برکت رکھی ہے۔ان کی دعائوں میں برکت رکھی ہے۔ان کے روزوں میں برکت رکھی ہے۔ان کے تقویٰ میں برکت رکھی ہے اور انہیں اپنے قرب کے لیے چن لیا ہے یہ تو وہ چیز تھی جو صحابہؓ کو نظر آتی تھی مگر عیسائیوں اور یہودیوں کو کیا نظر آتا تھا ؟ وہ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ ابوبکرؓ بڑا نمازی ہے یا اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں یا اس نے اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بڑی بھاری قربانیاں کی ہیں وہ ان ساری باتوں سے اندھے تھے۔انہیں اگر نظر آتا تھا تو یہ کہ ابوبکرؓ بڑا بادشاہ ہو گیا ہے۔عمرؓ بڑا بادشاہ ہو گیا ہے انہوں نے قیصر کو شکست دے دی ہے، انہوں نے کسریٰ کو تباہ کر دیا ہے، انہوں نے ملکوں پر قبضہ کر لیا ہے، انہوں نے بڑے بڑے لوگوں کو اپنے اندر شامل کر لیا ہے۔پس جب نبی کے ذریعہ کسی جماعت کو حکومت ملتی ہے تو اس کے بعد