تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 9
خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیتا ہے اور دوسرے شخص کے پاس صرف سو روپیہ تھا مگر اس نے سو کا سو روپیہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیا تو ایک سوروپیہ خرچ کرنے والا دس ہزار روپیہ چندہ دینے والے سے زیادہ ثواب حاصل کرے گا کیونکہ اس نے اپنی ساری پونجی خدا تعالیٰ کی راہ میں لٹا دی لیکن دس لاکھ والے نے اپنی ساری پونجی خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کی بلکہ اس کا سواں حصہ خرچ کیا۔پس وہ دس ہزار روپیہ خرچ کرنے کے باوجود ثواب میں اس شخص سے بہت کم رہے گا جس نے سوروپیہ خرچ کیا ہے۔اس کی ایک موٹی مثال موجود ہے حضرت ابوبکر ؓ مال میں حضرت عثمانؓسے بہت کم تھے۔حضرت عثمانؓنے صرف ایک غزوہ کے موقع پر اتنا چندہ دے دیا تھا کہ شائد ابو بکرؓ کو سالوں میں بھی مجموعی طور پر اتنا چندہ دینے کا موقع نہیں ملاہو گا۔مگر باوجود اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدمات میں حضرت ابوبکرؓ کی تعریف حضرت عثمانؓ سے زیادہ کی ہے اس کی وجہ درحقیقت یہی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بعض دفعہ اپنا سارا مال ہی خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیا تھا لیکن حضرت عثمانؓ کے متعلق یہ بات ثابت نہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے فرمایا ایک دفعہ میں نے ارادہ کیا کہ اب کی دفعہ صدقہ و خیرات میں ابوبکرؓ سے بڑھ جائوں۔ان کا اندازہ یہ تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے زیادہ سے زیادہ ایک وقت میں جو چندہ دیا ہے وہ نصف مال سے کم ہے چنانچہ حضرت عمرؓ نے فیصلہ کیا کہ میں اب کی دفعہ اپنا نصف مال دے دوں گا اور اس طرح ابوبکرؓ سے بڑھ جائوں گا۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں مال سے لداپھندا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچا اور میں اپنے دل میں بڑا خوش تھا کہ آج ابوبکرؓ سے ضرور بڑھ جائوں گا۔جب میں وہاں پہنچا تو ابوبکرؓ پہلے ہی کھڑے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ کہہ رہے تھے کہ ابوبکرؓ تم نے اپنے گھر میں بھی کچھ چھوڑا؟ اور ابوبکرؓ اس کے جواب میں یہ کہہ رہے تھے کہ یا رسول اللہ! اللہ اور اس کے رسول کا نام چھوڑا ہے حضرت عمرؓ کہتے ہیں جب میں یہ بات سنی تو میں نے اپنے دل میں سمجھ لیا کہ اس شخص سے بڑھنا ناممکن ہے(ابو داؤد کتاب الزکاۃ باب فی الرخصۃ فی ذالک) اب دیکھو جہاں تک مال کا سوال ہے عثمانؓ زیادہ مال دار تھے، جہاں تک رقموں کا سوال ہے جو رقمیں حضرت عثمانؓنے دیں ابوبکرؓ نے نہیں دیں مگر باوجود اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکرؓ کی تعریف کرتے ہیں عثمانؓکی اتنی تعریف نہیں کرتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اپنے مال کی نسبت سے ابوبکرؓ نے جو قربانی کی وہ عثمانؓنے نہیں کی۔پس یہاں جزائے اعمال کا اسلامی فلسفہ بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جزائے اعمال کے متعلق اسلامی مسئلہ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ یہ دیکھتا ہے کہ کمیت کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ یہ دیکھتا ہے کہ جو کچھ دیا گیا ہے وہ دینے والے کی قربانی کی طاقت کے مقابلہ میں کیا نسبت رکھتا ہے۔اگر دی ہوئی چیز بہت چھوٹی سی ہے مگر