تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 8
اشارہ مضمون کی طرف نہیں۔خود حدیث کے الفاظ بھی اسی پر دلالت کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے جو روایت مروی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ مَــنْ قَــــرَأَ فِیْ لَـــیْـــلَـۃٍ اِذَا زُلْــزِلَـــتْ کَانَ لَــــہٗ عَــدْلُ نِــصْـــفِ الْقُراٰنِ۔(فـتح البیان زیر سورۃ الزلزلۃ)آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اس کا مضمون نصف قرآن کے برابر ہے جیسے سورۂ فاتحہ کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ خلاصہ ہے سارے قرآن کا۔بلکہ آپ نے جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سورۃ کا ثواب نصف قرآن کے ثواب کے برابر ہے۔مگر یہ معنے بھی ایسے ہیں جنہیں کوئی عقل مند درست تسلیم نہیں کرسکتا۔کیونکہ اگر اس چھوٹی سی سورۃ کاثواب نصف قرآن کے ثواب کے برابر ہے۔تو پھر کسی کو سارا قرآن پڑھنے کی ضرورت ہی کوئی نہیں رہتی اور اگر اس سے یہ مراد ہے کہ اس میں نصف قرآن یا ربع قرآن کا مضمون بیان کیا گیا ہے تو پھر اس نصف یا ربع کی تعیین ہونی چاہیے تھی جن کا مضمون اس سورۃ میں خلاصۃً بیان کیا گیا ہے تا کہ جو شخص بھی اس سورۃ کو پڑھتا وہ سمجھتا کہ اس میں فلاں نصف یا فلاں ربع کے تمام مضامین آ گئے ہیں۔پس اگر ہم ان احادیث کو صحیح تسلیم کر لیں تو پھر وہی بات بن جاتی ہے جو دعائے گنج العرش کے متعلق مشہور ہے کہ جس نے اسے ایک دفعہ پڑھ لیا اسے آدمؑ سے لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سارے نبیوں، ولیوں اور بزرگوں کی عبادت کا ثواب مل گیا اس کے بعد انسان کو اور کیا چاہیے۔جب اتنی آسانی سے کسی کو سارے نبیوں اور بزرگوں اور ولیوں کی عبادت کا ثواب مل رہا ہو تو اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ محنت کرے اور اپنے نفس کو مشقتوں میں ڈال کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے وہ دعائے گنج العرش پڑھ لے گا اور مطمئن ہو جائے گا کہ میں نے وہ سب کچھ حاصل کر لیاجو مجھ سے پہلے نبیوں اور ولیوں نے حاصل کیا تھا۔پس اگر ثواب مراد ہے تو اس حدیث کا وہی مفہوم بن جاتا ہے جو دعائے گنج العرش کا ہے مگر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان احادیث کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا۔درحقیقت ان احادیث کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ ایک کمزور انسان جس کا حافظہ کمزور ہے اگر تین چار چھوٹی چھوٹی سورتیں یاد کر لے تو اسے ویسا ہی ثواب مل جائے گا جیسے ایک اچھے حافظہ اور علم رکھنے والے انسان کو جس نے سارا قرآن یاد کر لیا۔جزائے اعمال کا اسلامی فلسفہ اس طرح ایک تو جزائے اعمال کا اسلامی فلسفہ بتا دیا گیا کہ اسلامی فلسفہ یہ نہیں کہ اگر کسی کے پاس زیادہ سامان ہوں گے تو اسے زیادہ ثواب ملے گا بلکہ اگر کوئی شخص اپنی طاقت اور ہمت کے مطابق قربانی کا حق ادا کر دیتا ہے تو وہ ثواب میں اس شخص سے یقیناً بڑھ جائے گا جس نے گو بظاہر اس سے زیادہ قربانی کی مگر اپنی طاقت سے کم حصہ لیا۔مثلاً اگر کسی شخص کے پاس دس لاکھ روپیہ ہے اور وہ اس میں سے دس ہزار روپیہ