تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 124

گھوڑوںپر مخصوص طور پر کس طرح چسپاں کیا جا سکتا ہے کیوں نہ یہ سمجھ لیا جائے کہ وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا والی آیت اونٹوںپر بھی چسپاں ہو سکتی ہے اور حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے بیان کردہ معنے با لکل درست ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک استعارہ اور مجاز کا سوال ہے ہم خود تسلیم کرتے ہیںکہ عٰدِیٰتِ ضَبْحًا میں اونٹ بھی شامل ہیں۔کیونکہ جب اس چیز کا ذکر کر دیا گیا ہے جو اغارت میں زیادہ کام آتی ہے یعنی گھوڑے۔تو اونٹوں کا ذکر مجازی طور پر اس میں خود بخود شامل سمجھا جائے گا کیونکہ اونٹ بھی اغارت میں کام آتے ہیںگو گھوڑوں کی نسبت کم۔لیکن اگر صرف اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ اُلو یا بعض دوسرے جانوروں کی آواز کے لئے بھی ضَبْحٌ کا لفظ بول لیتے ہیں یہ کہا جائے کہ چونکہ اُلو یا فلاں جانور کی آواز کو بھی ضَبْحٌ کہا جاتا ہے اس لئے ہم اس جگہ وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا سے اونٹ مراد لیں گے تو یہ قیاس مع الفارق ہو گا کیونکہ اونٹ اور اُلو میں تو کوئی جوڑ ہی نہیںسوائے اس کے کہ کوئی مزاحیہ رنگ میں کہہ دے کہ اونٹ اور اُلو میںکیوں جوڑ نہیں۔اُلو میں بھی الف وائو آتا ہے اور اونٹ میں بھی الف وائو آتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیںکہ ضَبْحٌ کا لفظ بعض دوسرے جانوروںکی آواز کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے مگر عَادِیَات کے ساتھ مل کر ضَبْحًا کے جو معنے بنتے ہیںوہ سوائے گھوڑوں کے اور کسی چیز پر چسپاں نہیں ہو سکتے۔یوں خالی ضَبْحٌ کا لفظ بے شک خرگوش یا اُلو یا لومڑ کی آواز کے لئے استعمال کر لیاجاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہاںخالی ضَبْحٌ کا لفظ نہیں بلکہ وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا کے الفاظ ہیںاس لئے اس آیت کے معنے کرتے ہوئے وَ الْعٰدِيٰتِ سے ایسے دوڑنے والے ہی مراد لئے جائیں گے جن کے سینہ سے تیز دوڑتے ہوئے آواز نکلتی ہو اور اس آواز کو ضَبْحٌ کہا جاتا ہو۔اور میں بتا چکا ہوںکہ لغت میں صاف طور پر لکھا ہے کہ ضَبْحٌ اس آواز کو کہا جاتا ہے جو تیز دوڑتے وقت گھوڑوں کے سینوں میں سے نکلتی ہے پس وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا سے گھوڑے ہی مراد ہوں گے نہ کہ کوئی اور چیز۔اور اِبِل کا ذکر بھی استعارۃً سمجھا جائے گا نہ کہ حقیقی معنوں میں۔اس آیت کا یہ بھی ایک لطیف پہلو ہے کہ مکہ میں گھوڑے بہت کم ہوتے ہیںوہاں زیادہ تر اونٹوں کا رواج ہے۔جب میں حج کے لئے گیا تو سواری کے لئے گدھا تو مل جاتا تھا مگر گھوڑا نہیں ملتا تھا۔ہمارے ملک میںچونکہ گدھے پر سوار ہونا معیوب سمجھا جاتا ہے اس لئے میں نے کہا کہ گھوڑا تلاش کرو بڑی تلاش کے بعد گھوڑا تو نہ ملا ایک خچر مل گئی جس کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ یہ تین ہزار روپیہ کی ہے میں اس پر سوار ہو گیا۔ہم اس وقت غار ثور کی طرف جارہے تھے ا ور میرے باقی ساتھی گدھوں پر سوار تھے۔میرے ساتھی تو آدھ میل آگے نکل گئے مگر میں پیچھے رہ گیا